
ترکمنستان کے وزير خارجہ کي صدر احمدي نژاد کے ساتھ ملاقات:
ايران اور ترکمنستان کے درميان دوستي اور بھائي چارے پر مبني روابط کو مزيد فروغ دينے کي ضرورت ہے-
يہ بات صدر احمدي نژاد نے پير کے دن دارالحکومت تہران ميں تہران ميں ترکمنستان کے وزير خارجہ جناب رشيد مراد اف کے ساتھ ملاقات کے دوران کہي-
انہوں نے کہا کہ ايران اور ترکمنستان کے درميان ہميشہ قريبي اور گہرے روابط چلے آئے ہيں اور دونوں ملکوں کے سربراہوں نے دوطرفہ روابط کے فروغ کيلئے اپني کوششيں جاري رکھي ہوئي ہيں ليکن اس کے باوجود اب بھي دونوں ملکوں کے درميان مختلف شعبوں ميں روابط کو توسيع دينے کي ضرورت ہے۔
صدر مملکت نے ايران اور ترکمنستان کے درميان روابط کو ديگر ممالک کيلئے نمونہ قرار ديتے ہوئے کہا کہ مشترکہ کوششون سے ان روابط کو مزيد مستحکم بنايا جا سکتا ہے-
انہوں نے تہران ميں ہونے والے غير جانبدار تحريک کے سولہويں سربراہي اجلاس کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس اجلاس ميں ترکمنستان کے صدر کي شرکت نہايت مؤثر واقع ہوگي۔
ترکمنستان کے وزير خارجہ جناب رشيد مراد اف نے بھي ملاقات کے دوران دونوں ملکوں کے درميان اقتصادي تعاون اور ہمکاري کے بارہويں اجلاس کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ترکمنستان کي ہميشہ کوشش رہي ہے کہ اسلاميجمہوريہ ايران کے ساتھ روابط مستحکم بنائے جائيں اور ہم نے اس سلسلے ميں بہترين پاليسي آپنائي ہوئي ہے-
انہوں نے کہا کہ ايران اور ترکمنستان کے درميان تجارت سالانہ ۵ ارب ڈالرز کي تجارت ہو رہي ہےجو کہ دونوں ملکوں کے درميان طے شدہ معاہدوں کے مطابق عنقريب سالانہ ۱۰ ارب ڈالرز سے تجاوز کر جائے گي اور ہماري کوشش ہوگي کہ دوطرفہ تعلقات کو مزيد استحکام بخشا جائے۔