
صدر احمدي نژاد کا "
خواتين اور اسلامي بيداري" کي عالمي کانفرنس کي افتتاحي تقريب سے خطاب:
معاشرے کے اصلاح و تربيت ميں خواتين کا بنيادي اور مؤثر کردار ہے-
صدر احمدي نژاد نے موجودہ سياسي اور سماجي نظام پر تنقيد کرتے ہوئے کہا کہ اس ناکارہ اور فرسودہ نظام کي جگہ ايک کارآمد نظام کي بنياد رکھني چاہيے اور يہ تب ممکن ہے جب عوام خوابِ غفلت سے بيدار ہو جائيں، انہوں نے کہا کہ معاشرے کے اصلاح و تربيت ميں خواتين مردوں کي نسبت زيادہ مؤثر ہيں۔
آج (منگل)دارلحکومت تہران ميں" خواتين اور اسلامي بيداري" کے زيرِ عنوان منعقدہ بين الاقوامي کانفرنس کے دوران جس ميں 85 ممالک کے 1500 سے زائد خواتين شريک ہيں؛ صدر احمدي نژاد نے کہا کہ دنيا کو ايک نئے اور کارآمد نظام کي ضرورت ہے کيونکہ اللہ تعاليٰ نے انسان کو کمالات سے سرشار ايک اعليٰ زندگي گزارنے کيلئے خلق کيا ہے جبکہ ظلم و ستم اور حقارت کي زندگي بسر کرنا انسان کے شايانِ شان نہيں ہے- انہوں نے کہا اسلامي بيداري صرف مسلمانوں کے لئے نہيں بلکہ دنيا کے تمام انسانوں کے لئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعاليٰ نے انسان کو ايسي کرامت بخشي ہے کہ وہ اپنے اعمال کے ذريعہ اللہ کے صفات و کمالات کا مظہر بن سکتا ہے ليکن جب ہم موجودہ نظام کا جائزہ ليتے ہيں تو ہميں واضح ديکھائي ديتا ہے کہ موجودہ نظام ميں انسان اس مقصد سے دور ہوتا جا رہا ہے جس کيلئے انسان کي تخليق ہوئي ہے۔
انہوں نے کہا کہ بين الاقوامي اعداد وشمار کے مطابق اب بھي 3 ارب سے زائد افراد فقر و فاقہ کي زندگي گزارنے پر مجبور ہيں اور لوگ زندگي کي ابتدائي ضروريات سے بھي محروم ہيں؛ تو ان حالات ميں زندگي گزارنے والے افراد ترقي اور پيشرفت کے بارے ميں سوچ بھي نہيں سکتے۔
انہوں نے کہا کہ آج استکباري طاقتيں لوگوں کے سامنے آزادي، انساني حقوق کے علمبرداري اور بہتر معيار زندگي فراہم کرنے کا نعرہ بلند کرکے اور انہيں پيشرفتہ اقتصادي اور سياسي ترقي و پيشرفت کا وعدہ دے کر انسانيت کي تاريخ کا سب سے بڑا دھوکہ دے رہي ہيں تاکہ اس بہانے سے ان کي دولت اور ذخاير پر قبضہ کر سکيں-
انہوں نےبعض افراد کا يہ تاثر غلط قرار ديا کہ آمريکا ميں مکمل آزادي رائج ہے کيونکہ آج آمريکا ميں بدترين ڈيکٹيٹرشپ کي بنياد پر قائم حکومت حکمفرما ہے جو سرمايہ دار صہيوني گروہ کے اشاروں پر 30 کروڑ سے زائد عوام پر حکمراني کر رہا ہے۔
صدر احمدي نژاد نے انساني زندگي ميں عورت کے مقام کي طرف اشارہ کرتے ہوے کہا کہ اسلامي بيداري اور اس ميں آنے والے تحولات ميں خواتين مردوں سے زيادہ موثر ہيں۔ خداوند نے عورت کو بہت سے فضائل سے نوازا ہے، جو ہے وہ عورت کي قلبي کيفيت سے ہے۔ بچے کي پاک سرشت ميں اسکي ماں کے پاک دودھ کي تاثير ہوتي ہے۔ اگر عورت ارادہ کر لے تو دنيا کو تبديل کر سکتي ہے۔ آج سب سے زيادہ مغربي ممالک ميں عورت کے حقوق پامال ہو رہے ہيں۔
صدر احمدي نژاد نے تقريب ميں موجود خواتين کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جس معاشرے کي خواتين بيدار ہيں وہ معاشرہ بھي بيدار ہے۔ خواتين کي ذمہ داري بہت سنگين ہے، جس ميں اپنے گھر کے ساتھ معاشرے کي تربيت بھي شامل ہے-
صدرِ مملکت نے معاشرے کے اصلاح ميں خواتين کے کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعاليٰ نے خواتين کو بہترين خصوصيات اور خوبياں عطا کي ہيں جبکہ معاشرے ميں تمام افراد کي ترقي اور پيشرفت ميں اسکي ماں کا بہت اہم کردار ہوتا ہے اور ماں کا آغوش ہي انسان کيلئے سب سے بڑا تربيت گاہ ہے يہي وجہ ہے کہ اگر مائيں اپنے بچوں کي عشق، محبت اور اخلاص کے ساتھ تربيت کريں تو ايسے بچے پيدا ہوں گے جو پوري زندگي عدل و انصاف کے حصول کيلئے کوششوں ميں سرگرمِ عمل ہوں گے ليکن اگر مائيں اپنے بچوں کي تربيت کا لحاظ نہيں رکھتيں تو ايسے بچے دنيا ميں قدم رکھيں گے جو ايٹم بم بنائيں گے اور پوري انسانيت کا خاتمہ کرنے کي کوشش کريں گے۔