
پرتگال کے نئے سفير کي صدر احمدي نژاد کے ساتھ ملاقات:
مغربي ممالک کي جانب سے ايران کے خلاف اتني زيادہ کاروايئوں کے باوجود بھي ايران نے ہرگز انتقامي پاليسي سے کام نہيں ليا-
صدر مملکت نے اس بات پر زور ديا ہے کہ يورپي ممالک کي کاروائيوں سے ايران نے بہت بھاري نقصان اٹھايا ہے ليکن اس کے باوجود بھي اسلامي جمہوريہ ايران نے ہرگز انتقامي پاليسي سے کام نہيں ليا اور ہمارا نظريہ يہ ہے کہ دنيا کا نظام اپس ميں دوستي اور پيار و محبت سے بہتر طريقے سے چل سکتا ہے اور عناد و دشمني تمام ممالک کيلئے نقصان دہ ثابت ہوگي۔
صدر مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے بدھ کي رات پرتگال کے نئے سفير جناب ماريو داماش نونس کے ساتھ ملاقات کے دوران اس بات پر زور ديا کہ بين الاقوامي سطح پر روابط کي بنياد دوستي، پيار و محبت اور ايک دوسرے کيلئے احترام کے اصولوں ہر قائم رکھني چاہيے اور ديگر ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات استوار رکھنے کے بغير کسي بھي ملک کي بقاء ممکن نہيں ہے۔
صدرِ مملکت نے اس بات پر زور ديا کہ گذشتہ دو دہائيوں سے اسلامي جمہوريہ ايران اور پرتگال کے درميان نہايت قريبي روابط چلے آئے ہيں اور ہماري خارجہ پاليسي بھي يہي ہے کہ ہم تمام ممالک کے ساتھ بہترين تعلقات رکھنے کے خواہاں ہيں۔
صدر احمدي نژاد نے اپنے خيالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ہم نے اسلامي انقلاب کي کاميابي کے بعد مختلف ميدانوں ميں مغربي ممالک کي کاروائيوں سے بہت بھاري نقصان اٹھايا ہے ليکن اس کے باوجود بھي ہم نے ہرگز انتقام اور بدلہ لينے والي پاليسي سے کام نہيں ليا۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے مزيد کہا کہ آج بھي معلوم نہيں ہے کہ مغربي ممالک کو ايران کے ساتھ دشمني سے کيا فائدہ پہنچے گا البتہ اتنا ضرور ہے کہ استعماري ممالک نے اپنے سامراجي مقاصد کي تکميل کيلئے يہي پاليسي اپنائي ہے۔
صدر مملکت نے ملاقات کے دوران اس خواہش کا اظہار کيا کہ اسلامي جمہوريہ ايران پرتگال کے ساتھ ثقافت، سياحت، کھيل اور علم و ٹيکنالوجي کے ميدانوں ميں روابط بڑھانے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے موجودہ نظام پر تنقيد کرتے کرتے ہوئے کہا کہ يہ نظام کھوکھلا اور فرسودہ ہو چکا ہے، اس نے انسانيت کو کوئي فائدہ نہيں پہنچايا لہذا اب ضرورت اس بات کي ہے کہ معاشرے کو اس کے فرسودہ نظام کے مقابلے ميں ايک ايسا نيا نظام پيش کيا جائے جس کي بنياد عدالت اور باہمي رواداري پر رکھي گئي ہو اور جس کے مطابق تمام ممالک کو مساوي اور برابر کےحقوق حاصل ہوں۔
پرتگال کے نئے سفير جناب ماريو داماش نونس نے بھي اس ملاقات کے دوران اپنے سرکاري دستاويزات صدر احمدي نژاد کے سپرد کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کيا کہ ہمارا ملک اسلامي جمہوريہ ايران کے ساتھ تمام شعبوں ميں مستحکم روابط برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہ ثقافت، کھيل اور سياست سميت تمام شعبوں ميں باہمي روابط کو فروغ دينا چاہتا ہے۔
ايران ميں پرتگال کے نئے سفير نے مزيد کہا کہ يورپي يونين 27 ممالک سے تشکيل ہوا ہے اوربعض اوقات پرتگال يورپي يونين پراپنا نظريہ نہيں منواسکتا ليکن پھر بھي اميد ہے ايران کے خلاف يورپي يونين کے موقف ميں تبديلي آئے گي، بہرحال ہمارا ملک ايران کے ساتھ بہترين تعلقات استوار رکھنے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے اخر ميں انساني ہمدردي کے حوالے اسلامي جمہوريہ ايران کے موقف کي حمايت کي۔