
شام کے سپيکر کي صدر احمدي نژاد کے ساتھ ملاقات:
دشمن طاقتيں صيہوني حکومت کو بچانے کي ہر ممکن کوشش کر رہي ہيں
صدرِ مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ دشمن طاقتيں صيہوني حکومت کو بچانے کيلئے پوري توانائي سے کام لے رہي ہيں، انہوں نے کہا کہ يہ سامراجي طاقتيں خطے پر اپنا تسلط جمانے اور صيہوني حکومت کونابودي سے بچانے کي خاطر اپني پوري طاقت و توانائي استعمال کر رہي ہيں۔
صدر احمدي نژاد نے بدھ کي رات دارالحکومت تہران ميں شام کے سپيکر جناب "محمد جہاد اللحام" کے ساتھ ملاقات ميں اس بات پر زور ديا کہ صيہوني حکومت کا زوال قريب آيا ہے اور دشمن طاقتيں صيہوني حکومت کو بچانے کي ہر ممکن کوشش کر رہي ہے ليکن خطے کي بعض حکومتيں اس حقيقت سے غافل اپنا اقتدار بچانے کي خاطر صيہورني حکومت کا سہارا لينے کي کوشش کر رہي ہيں اور خفيہ طور پر صيہوني حکومت کے ساتھ تعلقات قائم کرنے ميں سرگرمِ عمل ہيں۔
صدرِ مملکت نے خطے کے مسائل پر بات چيت کرتے ہوئے کہا کہ استعماري طاقتوں کي جانب سے خطے ميں ڈيموکرسي قائم کرنےاور عوام کو آزادي دلانے کا دعويٰ کھلا جھوٹ ہےجس کا واضح ثبوت يہ ہےکہ ان ممالک نے سامراجي طاقتوں کے ساتھ قريبي روابط برقرار رکھےہوئے ہيں اور اپنے ملک ميں بھي ڈکٹيٹرشپ کي بنياد پر حکومت کر رہي ہے۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے واضح طور پر کہا کہ آمريکي کسي بھي ملک کا خير خواہ نہيں ہے يہ ہر جگہ ذاتي مفادات کے پيچھے لگے ہوئے ہيں اب يہ شام سميت خطے کے تمام ممالک کا حق بنتا ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا فيصلہ خود کر لے۔
صدرِ مملکت نے اميد ظاہر کي کہ شام کے لوگ ملک کو درپيش مسائل اور مشکلات کا خندہ پشاني سے مقابلہ کريں گے اور ملک کي تعمير و ترقي ميں بہت اہمکردار ادا کريں گے۔
شام کے سپيکر جناب محمد جہاد اللحام نے بھي دونوں ملکوں کے درميان دوستانہ اور بڑھتے ہوئے روابط پرخوشي کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور ديا کہ اس کا ملک اسلامي جمہوريہ ايران کے ساتھ روابط ميں خاصي دلچسپي ليتا ہے اور وہ ايران کے ساتھ روابط کو خاصي اہميت ديتا ہے۔
صدرِ مملکت ڈاکٹر احمدي نژاد نے خطے کے مسائل پر بات چيت کرتے ہوئے کہا کہ استعماري طاقتوں کي جانب سے خطے ڈيموکرسي برقرار کرنے اور عوام کو آزادي دلانے کا دعويٰ کھلا جھوٹ ہےجس کا واضح ثبوت يہ ہےکہ ان ممالک نے سامراجي طاقتوں کے گہرے روابط برقرار رکھے ہيں اور اپنے ملک ميں بھي ڈکٹيٹرشپ کي بنياد پر حکومت کر رہي ہے۔
انہوں نے واضح طور پر کہا کہ آمريکي ذاتي مفادات کے پيچھے لگے ہوئے ہيں اور يہ شام سميت خطے کے تمام ممالک کا حق بنتا ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا فيصلہ خود کر لے-
صدرِ مملکت نے اميد ظاہر کي کہ شام کي عوام ملک کو درپيش مسائل اور مشکلات کا خندہ پشاني سے مقابلہ کريں گے اور ملک کي تعمير و ترقي ميں بہت اہم کردار ادا کريں گے۔
شام کے سپيکر جناب محمد جہاد اللحام نے بھي دونوں ملکوں کے درميان دوستانہ اور بڑھتے ہوئے روابط پرخوشي کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زورديا کہ اس کا ملک اسلامي جمہوريہ ايران کے ساتھ روابط کو خاصي اہميت ديتا ہے۔