لاطيني امريکا کے دورے سے واپسي پر صدر احمدي نژاد کي صحافيوں سے بات چيت:<br />" ريو پلس 20 سربراہي اجلاس" ميں آزاد اور خود مختار ممالک کي مزاحمت سے مغربي ممالک کے سارے منصوبے ناکام ہو گئے-
جمعه 14 December 2012 - 10:55
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español

صدرِ ممالکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ برازيل کے دارالحکومت ريو ڈي جنيرو ميں منعقدہ "ريو پلس 20 سربراہي اجلاس" ميں آزاد اور خود مختار ممالک کي مزاحمت سے مغربي ممالک کے سارے منصوبے ناکام ہو گئے۔

لاطيني امريکا کے دورے سے واپسي پر صدر احمدي نژاد کي صحافيوں سے بات چيت:
"

ريو پلس 20 سربراہي اجلاس" ميں آزاد اور خود مختار ممالک کي مزاحمت سے مغربي ممالک کے سارے منصوبے ناکام ہو گئے-

صدرِ ممالکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ برازيل کے دارالحکومت ريو ڈي جنيرو ميں منعقدہ "ريو پلس 20 سربراہي اجلاس" ميں آزاد اور خود مختار ممالک کي مزاحمت سے مغربي ممالک کے سارے منصوبے ناکام ہو گئے۔

خبر کا کوڈ: 39223 - 

اتوار 24 June 2012 - 14:38

صدر ڈاکٹر احمدي نژاد آج اتوار کو لاطيني آمريکا کے چند روزہ دورے کے اختتام پر واپس تہران پہنچے، اس دوران انہوں نے تہران کے مہرآباد ائرپورٹ پر صحافيوں کے ساتھ دورے سے متعلق تفصيلي بات چيت کي-

ڈاکٹر احمدي نژاد نے دورے کا تفصيلي رپورٹ پيش کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے بوليوي اور ونزويلا سے اپنے دورے کا آغاز کيا جہاں پر ان ممالک کے حکام کے ساتھ دوطرفہ تعلقات ميں مزيد استحکام پيدا کرنے کے حوالے سے مختلف امور پر تبادلہ خيال ہوا۔

انہوں نے کہا کہ بوليوي اور ونزويلا کا شمار انقلابي ممالک ميں ہوتا ہے جو سامراج کے مقابلے ميں سيسہ پلائي ديوار کي مانند کھڑے ہيں اور بحمداللہ ہمارے بوليوي اور ونزويلا سميت تمام لاطيني امريکا کے ممالک کے ساتھ دوستانہ اور قريبي تعلقات ہيں، جبکہ ہمارے درميان صنعت، ذراعت، علم و ٹيکنالوجي اور ميڈيکل سميت مختلف منصوبوں پر معاہدے منعقد ہو چکے ہيںجبکہ چند ديگر اہم منصوبے ابھي زيرِ غور ہيں جن ميں تيل، گيس، ٹرانسپورٹ اور کشتياں بنانے کے منصوبے شامل ہيں۔

صدر ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ اس کے علاوہ ان ممالک کے حکام کے ساتھ علاقائي اور بين الاقوامي مسائل پر بھي تفصيلي گفتگو ہوئي اور اس سلسلے ميں بہت اہم تجاويز زيرِ غور لائے گئے۔

ڈاکٹر احمدي نژاد نے برازيل کے دارالحکومت ري ڈي جنيرو ميں منعقدہ ماحوليات سے متعلق عالمي سربراہي اجلاس کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مغربي ممالک کي کوشش يہ تھي کہ ديگر ممالک پر اپني طرز کي زندگي بسر کرنا لازمي قرار ديا جائے ليکن آزاد اور خودمختار ممالک کي مزاحمت سے يہ طے پايا کہ پہلے ترقي اور پيشرفت کا معنيٰ اور مفہوم صاف و شفاف طريقے سے واضح کرناچاہيے اس کے بعد دوسروں پر اپني طرزِ فکر کي زندگي بسر کرنا لازمي قرار دياجائے، يوں غربي ممالک کے سارے منصوبے ناکام ہوگئے۔

صدر احمدي نژاد نے مزيد کہا کہ اس اجلاس ميں مختلف ممالک کے سو سے زيادہ سربراہ شريک ہوئے تھے لہذا ان ممالک کے سربراہوں کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ بھي جاري رہا جن ميں سے اقوامِ متحدہ کے سيکرٹري جنرل کے ساتھ ملاقات نہايت کامياب رہي جس ميں خطے کو درپيش مسائل پر تفصيلي بات چيت ہوئي اور ہم نے اقوامِ متحدہ کو ان ممالک سے متعلق اپنے موقف سے اگاہ کيا جو خطے ميں بدامني اور تشويش کا باعث بنے ہوئے ہيں اور ہم نے يقين دلاياکہ اسلامي جمہوريہ ايران خطے ميں امن و امان کي صورتحال بحال ہونے سے متعلق ہر فيصلے کا خير مقدم کرے گا۔

اس کے علاوہ برزيل کے دانشوروں کے ساتھ بھي تفصيلي ملاقات رہي اور ہم اس نتيجے پر پہنچے کہ اللہ تعاليٰ کے فضل و کرم سے انقلاب اسلامي کے آثارپوري دنيا ميں نماياں ہو رہے ہيں اور انقلاب اسلامي کي برکت سے رفتہ رفتہ خوابِ غفلت ميں سوئے ہوئے انسان بيدار ہو رہے ہيں، بہرحال برازيل کي عوام بھي انہي اغراض و مقاصد تک پہچنے کي کوشش کر رہي ہے جو ہمارے اسلامي انقلاب کے اغراض و مقاصد ہيں اور انہيں بھي ہماري طرح بہت بڑے چيلنجوں کا سامنا ہے۔



خبر کا کوڈ: 39223  

- غیرملکی دورے