صدر احمدي نژاد کا عدليہ سے متعلق مشہد ميں منعقدہ سيمينار سے خطاب: معاشرے کے اصلاح ميں عدليہ کا بہت اہم کردار ہے-<br />
جمعه 14 December 2012 - 10:56
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español

صدرِ مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ انسان کي آزادي اور عظمت کو اسلام ميں جو مقام و درجہ حاصل ہے وہ کسي دوسرے مکتبِ فکر ميں حاصل نہيں ہے اور ہمارے آئين ميں انساني حقوق کا جتنا لحاظ رکھا گيا ہے اس کا پوري دنيا ميں کہيں بھي کوئي نمونہ موجود نہيں ہے۔

صدر احمدي نژاد کا عدليہ سے متعلق مشہد ميں منعقدہ سيمينار سے خطاب:

معاشرے کے اصلاح ميں عدليہ کا بہت اہم کردار ہے-

صدرِ مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ انسان کي آزادي اور عظمت کو اسلام ميں جو مقام و درجہ حاصل ہے وہ کسي دوسرے مکتبِ فکر ميں حاصل نہيں ہے اور ہمارے آئين ميں انساني حقوق کا جتنا لحاظ رکھا گيا ہے اس کا پوري دنيا ميں کہيں بھي کوئي نمونہ موجود نہيں ہے۔

خبر کا کوڈ: 39222 - 

منگل 26 June 2012 - 12:58



ڈاکٹر احمدي نژاد نے منگل کي صبح عدليہ سے متعلق مشہد ميں منعقدہ سيمينار سے خطاب کے دوران سب سے پہلے شعبان المعظم ميں اسلامي عيدوں کي مناسبت سے سب کو مبارکباد پيش کيا-

انہوں نے شہيد بہشتي (رہ) اور انکے ديگر 72 باوفا ساتھيوں کي شہادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انقلاب اسلامي کے اہداف و مقاصد کي ترويج اور اسلامي جمہوريہ ايران کے پہلے چيف جسٹس کے طور پر شہيد بہشتي (رہ) کے خدمات کسي پر بھي پوشيدہ نہيں ہيں۔

صدرِ مملکت ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ بلاشبہ انقلاب اسلامي کي کاميابي موجودہ دور کا سب سے اہم واقعہ ہے، يہ انقلاب عوام کي قربانيوں کي بدولت کاميابي سے ہمکنار ہوا جس کے آثار آج پوري دنيا ميں نماياں ہو رہے ہيں-

ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ انقلابِ اسلامي سے پہلے ڈکٹيٹر کے دورِ حکومت ميں عالمي سطح پر ايران کا تشخص بالکل پايمال ہو گيا تھا، ايک مخصوص طبقے کے لوگ پورے ملک پر حکمراني کر رہے تھے اور انہوں نے اپنے ملک کوطاغوتي طاقتوں کے ہاتھوں بيجڈالا تھا، فقر اور تنگدستي نے لوگوں کا جينا حرام کر ديا تھا، يہ ساري چيزيں ملک کي ترقي اور پيشرفت ميں رکاؤٹ بني ہوئيں تھيں

اس دوران امام خميني (رہ) کي بابصيرت قيادت ميں ايک عظيم اسلامي انقلاب رونما ہوا، عوام کو ان کے بنيادي حقوق دلوائے گئے اور انکي نظر و فکر کو اہميت دي گئي، وہ اکثر فرمايا کرتے تھے کہ " عوام کا ووٹ ہي سارا معيار ہے" کيونکہ امام خميني (رہ) نے يہ سبق اپنے رہبر اور پيشوا امام علي (ع) سے سيکھا تھاجنہيں عدل و انصاف ميں سختي کي وجہ سے مصلي عبادت پر شہيد کر ديا گيا تھا، وہ امام جو پوري دنيا کو دينے کيلئے تيار تھے ليکن انہيں يہ بات گوارا نہيں تھي کہ چيونٹي کے منہ سے گندم کا دانہ زبردستي نکال ديا جائے۔

صدر احمدي نژاد نے آئين کے ارٹيکل نمبر9 کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس شق کے تحت ملک کے استقلال اور قومي وحدت و اتحاد کو محفوظ رکھنا سب کي ذمہ داري ہے اور کسي بي پارٹي يا گروپ کو يہ حق حاصل نہيں ہے کہ وہ آزادي کے نام کو اپنے سياسي مفادات کيلئے استعمال کريں۔

ڈاکٹر احمدي نژاد نے ايران کے قانون اساسي ارٹيکل نمبر19 کي طرف اشارہ کيا جس ميں واضح طور پر اس بنيادي حق کو بيان کيا گيا ہے کہ تمام ايرانيوں کو برابر کے حقوق حاصل ہيں چاہے چاہے وہ جس قبيلے يا نسل سے بھي تعلق رکھتے ہوں۔

صدر احمدي نژاد نے اخر ميں ملک کے تمام ساسي پارٹيوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ذرا سوچيے کہيں ايسا تو نہ ہو کہ ہمارے باہمي سياسي کشماکش کے نتيجے ميں انقلاب کے اصلي اغراض و مقاصد کو نقصان پہنچے اور اسلامي تعليمات کو پسِ پشت ڈالا جائے۔



خبر کا کوڈ: 39222  

- غیرملکی دورے