ڈاکٹر محمود احمدي نژاد اور اقوام متحدہ کے سيکرٹري جنرل " بان کي مون" کي ملاقات:<br /> بين الاقوامي اور علاقائي مسائل کو گفتگو، فريقين کے احترام اور ملتوں کے حقوق کو مدنظر رکھ کر حل کرنا چاہيے۔
جمعه 14 December 2012 - 10:54
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español
مربوط خبر
منتخب خبریں

اسلامي جمہوري ايران کے صدر اور اقوام متحدہ کي سيکرٹري جنرل کے درميان ملاقات ميں عالمي اور علاقائي مسائل کے بارے گفتگو ہوئي اور موجودہ مشکلات کے راہ حل کے بارے ميں بھي تبادل نظر کيا گيا۔

ڈاکٹر محمود احمدي نژاد اور اقوام متحدہ کے سيکرٹري جنرل "

بان کي مون" کي ملاقات:
بين الاقوامي اور علاقائي مسائل کو گفتگو، فريقين کے احترام اور ملتوں کے حقوق کو مدنظر رکھ کر حل کرنا چاہيے۔

اسلامي جمہوري ايران کے صدر اور اقوام متحدہ کي سيکرٹري جنرل کے درميان ملاقات ميں عالمي اور علاقائي مسائل کے بارے گفتگو ہوئي اور موجودہ مشکلات کے راہ حل کے بارے ميں بھي تبادل نظر کيا گيا۔

خبر کا کوڈ: 39098 - 

جمعرات 21 June 2012 - 07:25

ڈاکٹر محمود احمدي نے بدھ کے دن ماحوليات کے اجلاس کے دوران اقوام متحدہ کے سيکرٹري جنرل "بان کي مون" کے ساتھ اپني ملاقات ميں کہا: اقوام متحدہ کا کردار عالمي مسائل ميں بہت اہم ہے دنيا ميں امن و امان کي ايسي فضاء قائم کرني چاہيے جس کي سائے ميں تمام قوميں آپس ميں صلح اور دوستي کي زندگي بسر کر سکيں۔

ڈاکٹر احمدي نژاد نے شام کے مسئلے کو پر امن طريقے سے حل کرنے پر تاکيد کي اور کہا : اسلامي جمہوريہ ايران شام کے مسئلے ميں کسي قسم کي بيروني مداخلت کے خلاف ہے اور يقين رکھتا ہے کہ اس مسئلے کو گفتگو اور تفاہم کے ساتھ حل کيا جا سکتا ہے۔

صدرمملکت نے کہاکہ ايران شام کے مسائل کو حل کرنے کے لئے اقوام متحدہ کي طرف سے پيش کئے جانےوالے ہر طرح کے منصفانہ فارمولے اور منصوبے کي حمايت کے لئے تيار ہے، ايسا منصوبہ ميں جس ميں اس ملک کے عوام کے حقوق کو اور باہمي تعاون کو مد نظر رکھا جائے -

صدر مملکت نے واضح کيا: اسلامي جمہوري ايران شام کے مسائل کو حل کرنے کيلئے ہر قسم کي مدد کرنے کو تيار ہے اس شرط کے ساتھ کے کہ اس مسئلے کو گفتگو کے ساتھ حل کيا جائے اوراس ملک کي حکومت اور عوام کے حقوق کا احترام کيا جائے کيونکہ يہ مسئلہ کبھي بھي قتل و کشتار اور بيروني مداخلت سے حل نہيں کيا جا سکتا۔

صدر اسلامي جمہوري ايران نے ايران کے ايٹمي مسئلے کے بارے ميں مسکو کے مذاکرات کے بارے ميں کہا: قانون سب کے بارے ميں يکساں طور پر ہونا چاہيے۔ ايران کي تمام ايٹمي فعاليت بين الاقوامي ايٹمي ايجنسي کي نگراني ميں ہے اور اسلامي جمہوري ايران خود کو بين الاقوامي معاہدوں کا پابند سمجھتا ہے۔

انہوں نے واضح کيا: اسلامي جمہوري ايران نہ کبھي ايٹمي اسلحہ بنانے کے فکر ميں تھا اور نہ اب اس فکر ميں ہے۔

انہوں اس اميد کا اظہار کيا کہ ۵+۱ کے ساتھ جو گفتگو جاري ہے يہ ايک اہم فرصت ہے کہ اس مسئلے کو دوستانہ ، عادلانہ اور قانوني طريقے سے حل کيا جائے۔

اقوام متحدہ کے سيکرٹري جنرل بان کي مون نے اس ملاقات ميں صدر مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد کا اجلاس ميں شرکت اور تقرير کرنے پر شکريہ ادا کيا۔ اور اس اميد کا اظہار کيا کہ ماحوليات کے اجلاس کے اختتام پر اتفاق راے سے قرار داد منظور ہو يہ دنيا کي ترقي ،آبادي اور تمام ممالک کے فائدے ميں ہے۔

بان کي مون نے دنيا اور علاقے ميں اسلامي جمہوري ايران کے کردار کو سراہا اور ايران کو عالمي مسائل ميں تاثير گذار ملک کے طور ذکر کيا۔

خبر کا کوڈ: 39098  

- غیرملکی دورے