
ڈاکٹر احمدي نژاد کا برازيل کے شہر ريوڈي جنيرو ميں ماحوليات سے متعلق عالمي سربراہي کانفرنس ميں خطاب:
تمام جمہوري طاقتوں کوعالمي نظام کا انتظام چلانے ميں تعميري اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہئے-
اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر نے برازيل کے شہر ريوڈي جنيرو ميں ماحوليات سے متعلق عالمي سربراہي کانفرنس ميں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنيا کے ممالک کو چاہيے کہ آپس ميں ايک دوسرے کے مفيد تجربوں سے استفادہ کرتے ہوئے عوام کيلئے بہتر مستقبل کي تلاش کريں اور موجودہ بدتر صورت حال کو عدالت،مہر ومحبت اور پائيدار امن ميں تبديل کريں ۔ گذشتہ ۶۰ سالوں سے ہم تلاش کر رہے ہيں ليکن بين الاقوامي نظام کو بہتر بنانے، ترقي اور امن قائم کرنے کے اپنے مقاصد ميں ناکام رہے ہيں ۔
صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے کہا ضرورت اس بات کي ہے کہ عالمي نظام ميں رائج خودپسندي اور بالادستي کو ختم کرکے اس کي جگہ انصاف اور محبت و بھائي چارے کو فروغ ديا جائے -
اس عالمي سربراہي کانفرنس ميں خطاب کے دوران صدر مملکت نے کہا کہ عالمي نظام اور پائيدار ترقي کا منصوبہ انسان کي خدمت اور اس کي ترقي کے لئے ہونا چاہئے - انہوں نے دنيا کے موجودہ نظام اور صورتحال کي اصلاح کي ضرورت پر زور ديتے ہوئے کہا تمام جمہوري طاقتوں کوعالمي نظام کا انتظام چلانے ميں تعميري اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہئے-
صدر ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا آج دنيا کو ايک نئے نظم ،ارادے اور نئے ايجنڈے کي ضرورت ہے۔ شمال اور جنوب کے بڑھتے ہوئے فاصلے، جنگيں، تسلط اور قبضے، اقتصادي مشکلات، حسد، اسلحہ جمع کرنے کي دوڑ، اخلاق او ر معنويت کا ختم ہونا يہ سب مسائل حاليہ دنيا پر حکمفرما اور موجودہ عالمي نظام کے ذمہ داروں کي کارکردگيوں کا نتيجہ ہے۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے اس صدي کے اہم حواث کي طرف اشارہ کيا کہ آخر ان تمام حوادث کے علل واسباب اور ان کي ذمہ دار کون ہيں؟ انہوں نے اشارہ کيا کہ ترقي پذير ممالک کئي عشروں سے کوشش کر رہے ہيں ليکن ايک چھوٹا سا ترقي پذير گروپ ان کو آگے نہيں بڑھنے ديتا ہے۔
صدر مملکت نے اس سوال کو اٱٹھايا کہ وہ کونسے لوگ ہيں جو اس صورت حال سے فائدہ اٹھا رہے ہيں؟
صدر مملکت نے اپني تقرير کے ايک حصے ميں کچھ تجاويز بيان کيں اور کہا: موجودہ صورت حال کي اصلاح کيلئے انسان کي تعريف ميں دوبارہ غور و فکر کيا جائے اور بين الاقوامي نظام کي بنياد کو انسان کي خدمت اور معنوي تعليم پر رکھا جائے۔ دنيا کي آئندہ نظم کو انصاف و محبت اور قانون پر قائم کيا جائے۔ خانداني اقدار کو بحال اور عورتوں کو اپناحقيقي مقام ديا جائے۔ تمام جمہوري ممالک کو بين الاقوامي امور ميں شراکت کا موقع فراہم کيا جائے۔ عالمي نظم کي باگ ڈور صالح ہاتھوں ميں دي جائے۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے آخر ميں اشارہ کيا: کہ تمام انبياء کا وعدہ ہے کہ بالآخر قوموں کي ہمت سے اس دنيا کي باگ ڈور ايک صالح اورکامل انسان کے حوالے کي جائيگي جو اس دنيا کو عدالت، دوستي، محبت وعشق سے لبريز کرديں گے۔ يہ ہم سب کا فريضہ ہے کہ انساني صلاحيتوں کو بيدار کرنے اور اس منزل مقصود تک پہنچنے کيلئے کوشش کريں۔