
اسلامي جمہوري ايران اور بوليبي کے صدر کي مشترکہ پريس کانفرنس :
جغرافيائي فاصلوں کے باوجود دونوں قوموں کے دل ايک دوسرے کے ساتھ زيادہ قريب ہيں ۔
صدر مملکت نے منگل کے دن بوليويا کا دورہ کيا اس موقع پر صدر مملکت ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا: ايران اور بوليويا دونوں مستقل ملک ہيں اور دونوں عرصہ دراز سے فرہنگ و ثقافت کے مالک ہيں ۔ دونوں ممالک اپنے پاوں پر کھڑا ہونا چاہتے ہيں۔ پيشرفت، ترقي، آزادي ، انصاف اور حق خود اراديت اور اپني ملتوں کے حقوق چاہتے ہيں اسي لئے استعماري طاقتيں دونوں ممالک کي ترقي کے خلاف ہيں ۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا: دونوں ممالک کا تعاون اور دوستي يقيني طور پر دونوں قوموں کے مفاد اور ترقي کي ضامن
ہے۔ آج کا بوليويا ايک انقلابي صدر کي سرپرسي ميں ترقي اور خوشحالي کي راہ پر گامزن ہے اور اميد ہے کہ بوليويا تيزي کے ساتھ تکامل اور ترقي کے منزليں طے کرتے ہوئےمنزل مقصود تک پہنچ جائيگا۔
بوليويا کے صدر ايوو مورالس نے ڈاکٹر احمدي نژاد کا شکريہ ادا کيا اور کہا : ايران ايک ايسا ملک ہے کہ بوليويا مختلف حوالوں سے اس پر يقين کرتا ہے اور دونوں ممالک آپس ميں ملکر امپرياليسم کے خلاف بہت کچھ کرسکتے ہيں ۔
ايوو مورالس نے کہا: آج جو ملک آزادي کي طرف قدم اٹھاتا ہے استکباري طاقتيں اس پر حملہ آور ہو جاتي ہيں۔ ڈاکٹر احمدي نژاد کو يقين ہونا چاہيے کہ اس راستے ميں وہ تنہا نہيں ہے بلکہ بوليبي قوم اس کے ساتھ ہے۔ موراليس نے تاکيد کي: آخري چند سالوں ميں دونوں ممالک کے درميان ہر حوالے سے تعاون ميں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے اسلامي جمہوري ايران کا شکريہ ادا کيا کہ وہ ہ پختہ عزم کے ساتھ ہر حوالے ان کے ملک کي مدد کر رہا ہے۔
اس موقع پر دونوں ممالک کے صدر، وزراء خارجہ اور اعلي افسروں کي موجودگي ميں آپس ميں تعاون کي اسناد پر دستخط کئے گئے ۔