
برزيل ميں اور اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر کي حاضري ميں
بيسويں عالمي ماحولياتي اجلاس [ ريو+ ۲۰] نے باقاعدہ طور پراپنے کام کا آغاز کيا-
ترقي اور ماحوليات کے بيسويں عالمي اجلاس نے اسلامي جمہوري ايران کے صد اور دنيا کے سو سے زيادہ ممالک کے نمائندوں کي موجودگي ميں باقاعدہ طور پر اپنے کام آغاز کيا۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے بدھ کے دن عالمي ماحوليات کانفرنس ميں شرکت کي غرض سے برزيل کا سفر کيا۔ برزيل کے شہر ريو جينرو ميں اقوام متحدہ کي طرف سے منعقدہ اس اہم کانفرنس ميں اقوام متحدہ کے سيکرٹري جنرل، سو سے زيادہ ممالک کے نمائندے اور سينکڑوں حکومتي اور غير حکومتي ادروں [جو ماحوليات کے حوالے سے کام کرتے ہيں] کے نمائندوںنے شرکت کي۔ تعداد اور شرکاء کے حوالے سے اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلي کے بعد يہ اجلاس سب سے بڑا اور اہم اجلاس ہوتا ہے ۔
اس ادارے نے زمين، ماحوليات، فقر و غربت، ابتدائي تعليم، بچوں کي اموات، ماں کي صحت، پائيدار ترقي اور عالمي مشارکت جيسے عناوين کے ساتھ ۱۹۹۲ سے اپنے کام کا آغاز کيا۔
اس جلاس ميں اقوام متحدہ کے راہنما، مختلف ممالک کے سربراہان مملکت اور عالمي ماحوليات کي تنظيموں کے سربراہ مختلف موضوعات پر تقارير اور اظہار راے کرتے ہيں۔