صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے جرمن اخبار فرينکفرٹر سے اپنے انٹرويو ميں کہا: ايران ماسکو مذاکرات کے دوران پانچ جمع ايک گروپ کي جانب سے نيک نيتي کے اظہار کا منتظر ہے-<br />
جمعه 14 December 2012 - 10:53
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español

اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر نے جرمن اخبار فرينکفرٹر سے گفتگو ميں کہا کہ ايران پانچ جمع ايک گروپ کے ساتھ تعاون جاري رکھنے کے لئے ماسکو مذاکرات کے دوران اس گروپ کي جانب سے نيک نيتي کے اظہار کا منتظر ہے-

صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے جرمن اخبار فرينکفرٹر سے اپنے انٹرويو ميں کہا:

ايران ماسکو مذاکرات کے دوران پانچ جمع ايک گروپ کي جانب سے نيک نيتي کے اظہار کا منتظر ہے-

اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر نے جرمن اخبار فرينکفرٹر سے گفتگو ميں کہا کہ ايران پانچ جمع ايک گروپ کے ساتھ تعاون جاري رکھنے کے لئے ماسکو مذاکرات کے دوران اس گروپ کي جانب سے نيک نيتي کے اظہار کا منتظر ہے-

خبر کا کوڈ: 38932 - 

اتوار 17 June 2012 - 18:28



صدر ڈاکٹر احمدي نژاد نے اس انٹرويو ميں وضاحت کرتے ہوئے مزيد کہا کہ اگر پانچ جمع ايک گروپ ماسکو مذاکرات مين منطقي رويہ اپنائے اور ايران کے ساتھ مشترکہ معاملات تک پہنچنے کے لئے مثبت قدم اٹھائے تو ايران بھي ہميشہ کي طرح يورينيم کي بيس فيصد افزودگي کے سلسلے ميں اس گروپ کے ساتھ بات چيت کے لئے تيار ہے -

جمہوريہ ايران کے صدر ڈاکٹر احمدي نژاد نے ماسکو مذاکرات کے بارے ميں کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران بھر پور طرح سے ايٹمي انرجي کي عالمي ايجنسي کے ساتھ تعاون کررہا ہے بنابرين سارے ملکوں کے حقوق کا احترام کيا جانا چاہيے۔

صدر جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے پارچين فوجي سائٹ کے بارے ميں کہا کہ اس سائٹ کے معائنے ميں بات ايران اور آئي اے اي اے کے معاہدوں ميں نہيں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ايران صرف طبي ضرورتوں کے لئے بيس فيصد تک يورينيم افزودہ کررہا ہے اور ايٹمي انرجي کي عالمي ايجنسي کے قوانين کے مطابق ايران کو بيس فيصد تک يورينيم افزودہ کرنے کا حق حاصل ہے

صدر ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ ايران کي ايٹمي سرگرمياں ہميشہ بين الاقوامي قوانين کے دائرے ميں رہي ہيں اور اس سلسلے ميں ايران نے ايجنسي کے قوانين سے بالا تر ہو کر اس کے ساتھ تعاون کيا ہے –

انہوں نے کہا کہ پرامن ايٹمي سرگرميوں کو لے کر ايران پر دباؤ ڈالنے کي بڑي طاقتوں کي پاليسي محض ايک بہانہ ہے کيونکہ وہ اچھي طرح جانتے ہيں کہ اسلامي جمہوريہ ايران ايٹم بنانے کا کوئي ارادہ نہيں رکھتا اور اس عمل کو وہ خلاف انسانيت سمجھتا ہے-

صدر ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ ايران کي ايٹمي سرگرمياں ہميشہ بين الاقوامي قوانين کے دائرے ميں رہي ہيں اور اس سلسلے ميں ايران نے ايجنسي کے قوانين سے بالا تر ہو کر اس کے ساتھ تعاون کيا ہے –

انہوں نے مزيد کہا کہ پرامن ايٹمي سرگرميوں کو لے کر ايران پر دباؤ ڈالنے کي بڑي طاقتوں کي پاليسي محض ايک بہانہ ہے کيونکہ وہ اچھي طرح جانتے ہيں کہ اسلامي جمہوريہ ايران ايٹم بنانے کا کوئي ارادہ نہيں رکھتا اور اس عمل کو وہ خلاف انسانيت سمجھتا ہے-

صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے ايران کے ايٹمي معاملے ميں آئي اے اي اے کے رويے کو تفريق آميز قرارديا اور کہاکہ اس طرح کي تفريق آميز پاليسياں دنيا کے موجودہ نظام کو تباہي کے دہانے پر پہنچاديں گي –

انہوں نے کہا کہ ايران کے خلاف مغرب کي عائد کردہ پابنديوں سے دونوں کو نقصان پہنچے گا تاہم صدر نے کہا کہ تجربے سے يہ بات ثابت ہوچکي ہے کہ ملت ايران نے اپني توانائيوں پر انحصار کرتے ہوئے ان پابنديوں کو ناکام بنايا ہے

صدر جناب احمدي نژاد نے کہا کہ مستکبرين کبھي بھي اسلامي جمہوريہ ايران کي مخالفت کي بنيادي وجوہات کو واضح نہيں کريں گے ۔ ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران اپنے ايٹمي حقوق کے اثبات کے لئے مذاکرات اور کوششيں جاري رکھے گا اور تعميري تجويزيں دے کر اپنے ايٹمي حقوق کو ثابت کرنے کي سعي جاري رکھے گا-

صدر ڈاکٹراحمدي نژاد نے جرمن اخبار فرينکفرٹر سے گفتگو ميں کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران شام کو بھي دنيا کے ديگر ملکوں کي طرح نصيحت کرتا ہےکہ قوم کو آزادي، انتخابات، اور بنيادي حقوق، عدل و انصاف، احترام اور خود مختاري کا حق حاصل ہے ۔

ڈاکٹراحمدي نژاد نے کہا کہ اصلاحات مغرب اور مشرق وسطي ميں ضروري ہيں اور اليکشن پرامن فضا ميں ہونے چاہيں ليکن افسوس کہ شام ميں نيٹو اور بعض علاقائي ملکوں کي مداخلت سے بحران پيچيدہ ہوچکا ہے۔

صدر جناب احمدي نژاد نے کہا ہے کہ اسلامي جمہوريہ ايران شام کے بحران کو حل کرنے کےلئے تمام فريقوں سے تعاون کرنے کو تيار ہے تاکہ يہ مسئلہ گفتگو کے ذريعے حل ہوسکے اور شام کے گروہ ايک دوسرے کے قريب آسکيں اور گفتگو کا ماحول قائم ہوسکے۔

اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے کہا ہے کہ شام ميں بعض علاقائي ملکوں کي مداخلت سے بحران مزيد پيچيدہ ہوگيا ہے۔

خبر کا کوڈ: 38932  

- انٹرویو کا مکمل متن