
صدر احمدي نژاد کے چين کے فونيکس ٹي وي چينل کے ساتھ انٹريو:
عالمي سطح پر حاليہ رونما ہونے والے حالات کا رخ نئے منصفانہ نظام کي جانب ہے
صدرِ مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے اس بات پر زور ديا ہے کہ موجودہ نظام کي خامياں سب کے سامنے واضح اور آشکار کرني چاہيے تاکہ عوام خوابِ غفلت سے بيدار ہو جائيں اور اس فرسودہ نظام ميں تبديلي لا سکے، البتہ اگر عالمي سطح پر رونما ہونے والے حالات کا جائزہ ليا جائے تو صاف روشن ہے کہ پوري دنيا کے لوگ عدل و انصاف پر مبني ايک نئے نظام کي تلاش ميں سرگرمِ عمل ہيں۔
صدر احمدي نژاد نے چين کے فونيکس ٹي وي کے ساتھ انٹريو ميں اس بات کي طرف اشارہ کيا کہ اگرچہ آزاد اور خودمختار ممالک کو کاميابي ملنے ميں کچھ وقت لگے گا ليکن اخرکار فتح ہماري ہي ہوگي، انہوں نے کہا کہ لوگ موجودہ حالات سے تنگ آ چکے ہيں، انساني معاشرہ انصاف کي جانب رواں دواں ہے اور حقيقي انصاف تک پہنچنا ہر ايک کي تمنا اور آرزو بن چکا ہے-
صدرِ مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ عالمي نظام کي اصلاح کے لئےسب کو مل کر کوشش کرنا ہوگي-
ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران بڑي تيزي کے ساتھ ترقي کي چوٹياں سر کر رہا ہے، اگرچہ في الحال ہم نہايت سخت اور بحراني حالات سے گزر رہے ہيں ليکن ہمارا مسقبل نہايت ہي روشن ہے کيونکہ مجھے اس بات کا مکمل بھروسہ ہے کہ ہميشہ کيلئے حالات ايسے نہيں رہيں گے اور انشاء اللہ کاميابي بہت ہي جلد ہماري قدم چومے گي۔
صدر احمدي نژاد نے ايران کے جوہري پروگرام کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب ميں کہا کہ جوہري پروگرام کے حوالے سے ہمارا موقف صاف اور روشن ہے کيونکہ ہماري تمام تر ايٹمي سرگرمياں بين الاقوامي ايٹمي ايجنسي کے زيرِ نگراني انجام ہو رہي ہيں اور ہماري ايٹمي پلانٹوں پر بين الاقوامي ايٹمي ايجنسي کے کيمرے نصب ہيں لہذا اس حوالے سے کوئي ابہام موجود نہيں ہے اصل مسئلہ دنيا پر حاکم ان تسلط پسند ممالک کا ہے جو کسي بھي صورت ميں ايران کي تعمير و ترقي برداشت نہيں کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ مغربي ممالک کا ايران کے ايٹمي سرگرميوں کي مخالفت سياسي نوعيت کا ہے اور وہ ايران کي خود مختاري کو نقصان پہنچانا چاہتے ہيں کيونکہ اسلامي انقلاب سے پہلے ڈکٹيٹر کے دورِ اقتدار ميں انہي ممالک نے ايران کے ساتھ ايٹمي پروگرام کے حوالے سے چھ معاہدے منعقد کئے تھے ليکن جوں ہي ہماري عوام نے ڈکٹيٹر کا تختہ الٹ ديا اور ايران ايک آزاد اور خودمختار ملک ميں تبديل ہو گيا تو يہي ممالک ايران کے مخالف ہو گئے اور اس دن سے ليکر آج تک يہي ممالک ايران کي ترقي اور پيشرفت کے حوالے سے ہر اقدام کي مخالفت کرتے رہتے ہيں، درحقيقت ان کا بنيادي مقصد يہ ہے کہ تمام آزاد اور خود مختار ممالک کو پسماندہ رکھا جائے اور انہيں سائنس، ٹيکنالوجي سميت تمام شعبوں ميں ترقي سے باز رکھا جائے۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے ايران کي پرامن ايٹمي سرگرميوں پر مغربي ممالک کي تشويش کو بے بنياد اور غلط قرار ديتے ہوئے کہا کہ بعض ممالک کے پاس ہزاروں ايٹمي ہتھيار ہيں اور اس کا وہ اعتراف بھي کرتے ہيں ـ
صدر مملکت ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ ايران تعميري تجاويز ديتا رہے گا اور اپنے قانوني ايٹمي حقوق کے لئے پوري لگن کے ساتھ جدوجہد جاري رکھے گا
صدر ڈاکٹر احمدي نژاد نے مزيد کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران دنيا پر حاکم غير عادلانہ نظام کا سر سخت مخالف ہے اور وہ اسے تمام برائيوں کي جڑ سمجھتا ہے لہذا اب اس پرانے اور فرسودہ نظام کے جايگزين اور متبادل ايک نئے نظام کو متعارف کرنے کي ضرورت ہے جو معاشرے کي کمال و سعادت کي جانب راہنمائي کرے-
ڈاکٹر احمدي نژاد نے نے مغربي ممالک کي جانب سے ايران کے اوپر دباؤ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہزاروں سال پراني تہذيب و ثقافت رکھتے ہيں لہذا ہميں ان دھمکيوں سے کوئي تشويش نہيں ہے۔
چيني خبرنگار کے اس سوال کے جواب ميں کہ کيا ايران کے اندر آپ کو ايک قہرمان کي حيثيت سے ديکھا جاتا ہے؟ صدر مملکت نے کہا کہ مجھے اس بات پر بہت فخر ہے کہ ميں بھي ايراني قوم کي ٹاٹيں مارتے ہوئے سمندر کا ايک معمولي قطرہ ہوں جس کا قافلہ انصاف کي جانب رواں دواں ہے۔