
افغانستان کے صدرحامد کرزئي کي ڈاکٹر احمدي نژاد کے ساتھ ملاقات:
آمريکي حکومت افغانستان کے ساتھ امن و سلامتي کي قرارداديں منعقد کرنے سے ہرگز اپنے اہداف تک نہيں پہنچ سکتي
صدر مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ آمريکي حکومت پوري دنيا پرقبضہ جمانے کي ناکام کوشش کر رہي ہے جس کا ايک نمونہ افغانستان ميں امن و سلامتي کي قرارداديں منعقد کروانا ہے ليکن آمريکي حکومت ان قراردادوں سے ہرگز اپنے اہداف تک نہيں پہنچ سکتي۔
صدر احمدي نژاد نے جو ان دنوں بارہويں شنگھائي سربراہي اجلاس ميں شرکت کيلئے چين کے دورے پر ہيں؛ افغانستان کے صدر جناب حامد کرزئي کے ساتھ ملاقات کي، اس ملاقات کے دوران صدر احمدي نژاد نے اس بات کي طرف اشارہ کيا کہاسلامي جمہوريہ ايران اقتصادي مفادات کي خاطرافغانستان کے ساتھ تعلقات استوار کرنا نہيں چاہتا بلکہ ہم افغانستان ميں امن و سلامتي بحال کرناچاہتے ہيں-
انہوں نے اس عزم کا اظہار کيا کہ ايران کسي بھي مشکل گھڑي ميں افغانستان کا ساتھ نہيں چھوڑے گا اور افغانستان کي تعمير و ترقي کے حوالے سے کسي بھي کوشش سے دريغ نہيں کرے گا۔
صدر مملکت نے جوہري پروگرام کے حوالے سے 5+1 گروپ کے ساتھ حاليہ مذکرات کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران گفتگو اور مذکرات کو تمام مسائل کا حل سمجھتے ہيں ليکن استکباري طاقتيں اس مسئلے کو مزيد اچھال رہے ہيں، درحقيقت وہ مختلف بہانوں سے ايران کي ترقي اور پيشرفت ميں رکاوٹيں ڈال رہے ہيں-
انہوں نے اپنے موقف کي وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسلامي جمہوريہ ايران ايٹم بم بنانے کے درپہ ہوتا تو اس کا باقاعدہ اعلان کرتا کيونکہ ہميں دنيا کے کسي بھي طاقت سے کوئي خوف نہيں ہے ليکن ہمارے اپنے ديني اور اخلاقي اصول ہميں اس کام کي اجازت نہيں ديتے۔
اس ملاقات کے اخر ميں افغانستان کے صدر حامد کرزئي نے بحراني حالات ميں اسلامي جمہوريہ ايران کا بھرپور ساتھ دينے پر ايراني حکومت کا شکريہ ادا کيا۔