
شنگھائي تعاون تنظيم کے بارہويں سربراہي اجلاس ميں ڈاکٹر احمدي نژاد کي تجاويز؛
اقتصادي تعاون کي توسيع ۔ تسلط پسندوں کے تسلط سے ہٹ کے کرنسي و مالي اداروں کے قيام ۔ اور سياسي و ثقافتي تعلقات کے فروغ
اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر جناب ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے شنگھائي تعاون تنظيم کے بارہويں سربراہي اجلاس ميں شرکت کيلئے بيجنگ کے دورے پر ہيں اپني تقرير ميں اس تنظيم کے دائرے ميں علاقائي تعاون سے متعلق ايران کي تجاويز پر روشني ڈالي اور شنگھائي تعاون تنظيم کے رکن ملکوں کے سربراہوں سے گفتگو اور تبادلۂ خيال کيا۔
ايران کے صدر جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے آج (جمعرات) شنگھائي تعاون تنظيم کے بارہويں سربراہي اجلاس سے اپنے خطاب ميں کہا کہ ہم سب ايک اچھي دنيا بنانے کي کوشش ميں ہيں اور موجودہ عالمي نظام غير منصفانہ اور غيرانساني خصوصيات کي وجہ سے خود بخود ناکام اور خاتمے کے قريب پہنچ گيا ہے۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ آج شمالي امريکہ سے ليکر يورپ تک، ايشياء،افريقہ اور لاطيني امريکہ تک تمام خطے اقتصادي بحران کے شکار ہيں اور يہ اقتصادي بحران ايک سياسي اور اجتماعي بحران ميں تبديل ہونے ہونے والا ہے۔ شنگھائي کانفرنس کے اراکين اس کمزور قافلے کو آگے بڑھا سکتےہيں اور اس خطے کو اقتصادي لحاظ سے دنيا کے سر فہرست علاقوں ميں تبديل کر سکتے ہيں۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے دنيا پر حاکم موجودہ نظام کو غير منصفانہ قرار ديا اور اميد ظاہر کي کہ يہ نظام آخري مراحل طے کر رہا ہے۔
صدر مملکت نے واضح کيا کہ شنگھائي کانفرس کے اراکين کو چاہيے کہ وہ آپس ميں اقتصادي تعلقات کو مستحکم بنائيں اور ايک نيا مالي نظام متعارف کرائيں کيونکہ بين الاقوامي سامراج چين ،روس،ايران اور پاکستان سميت خود مختار ممالک کي ترقي اور پيشرفت کے خلاف ہے۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ اغيار کے تفرقہ و جدائي پر اصرار کے مقابلے ميں دوستي و يکسوئي کے فروغ سے متعلق سياسي و ثقافتي تعلقات کي توسيع بہت زيادہ ضروري ہے جو تمام رکن ملکوں کي ترقي و پيشرفت کے ساتھ ساتھ سيکيورٹي کے استحکام کا بھي باعث بنے گي۔
صدر ڈاکٹر احمدي نژاد نے شنگھائي تعاون تنظيم کے بارہويں سربراہي اجلاس سے اپنے خطاب ميں شنگھائي تعاون تنظيم کي علاقائي و عالمي يکسوئي و ہمدلي کے فروغ ۔ اقتصادي تعاون کي توسيع ۔ تسلط پسندوں کے تسلط سے ہٹ کے کرنسي و مالي اداروں کے قيام ۔ اور سياسي و ثقافتي تعلقات کے فروغ جيسے نکات کو دنيا کي موجودہ صورت حال سے باہر نکلنے اور دنيا کے نئے اور منصفانہ نظام کے ڈھانچے کي تعمير کي طرف آزاد ملکوں کي حرکت کے طريقوں کي حيثيت سے پيش کيا ۔
انہوں نے وضاحت کي کہ استعماري طاقتيں مادي او سياسي کسي بھي حوالے سے اپنے وعدے کے پابند نہيں ہيں لہذا قوموں کو بيدار ہونا چاہيے اور قوموں کے ارادوں سے دنيا ميں ايک جديد نظام قائم ہوسکتا ہے۔
ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے شنگھائي تعاون تنظيم کے ساتھ ايران کے تعاون کو بہت زيادہ وسيع اور موثر قرار ديا اور کہا اسلامي جمہوريہ ايران ہر حوالے سے تيار ہے کہ انساني اھداف کوحاصل کرنے اورمنصفانہ نظام قائم کرنے ميں شنگھائي تعاون تنظيم کي حمايت اور مدد کرے۔