
ڈاکٹر احمدي نژاد کي چين کے صدر کے ساتھ ملاقات:
ايران اور چين ايک ہي محاذ پر کھڑے ہيں اور ہر ايک کي پيشرفت دوسرے کے مفاد ميں ہے-
اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر جناب ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے آج (جمعہ) شنگھائي تعاون تنظيم کے بارہويں سربراہي اجلاس کے موقع پر چين کے صدر ہوجين تائو سے ملاقات کي اور کہا کہ ايران اور چين ايک ايک ہي محاذ پر کھڑے ہيں اور ہر ايک کي پيشرفت دوسرے کے مفاد ميں ہے-
صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے اس نشست ميں، تہران اور بيجنگ کے تعلقات کو دوستي پر مبني بتايا اور کہا کہ بہت سے علاقائي اور بين الاقوامي مسائل ميں ايران اور چين کے نظريات يکساں ہيں-
ڈاکٹر احمدي نژاد نے حاليہ برسوں ميں ايران اور چين کے تعلقات ميں پيشرفت کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کا تعاون پوري طرح سے امن عالم اور اقوام کے لئے انصاف کي فراہمي کے تناظر ميں ہے- دونوں ملکوں کے سربراہوں نے اسي طرح اس ملاقات ميں ايران اور چين کے درميان ثقافتي، سائنسي، تعليمي اور سياحتي تعاون ميں فروغ کي ضرورت پر زور ديا-
جناب ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے شنگھائي تعاون تنظيم کے بارہويں سربراہي اجلاس کے موقع پر چين کے صدر ہوجين تائو سے ملاقات ميں چين کي ترقي و پيشرفت پر اظہار خوشي کرتے ہوئے سائنس و ٹيکنالوجي منجملہ خلائي شعبے ميں تعاون ۔ يونيورسٹيوں کي سطح پر تعاون ۔ تعلقات کي توسيع ۔ مالي و تجارتي لين دين کے شعبوں ميں رکاوٹوں کو دور کرنے ۔ مشترکہ اقتصادي سرگرميوں کے فروغ اور توانائي کے شعبے ميں طويل المدت سمجھوتوں کے انعقاد کو ايران اور چين کے دو طرفہ تعاون کے ذرائع سے تعبير کيا-
ہو جن تاؤ نے جمعے کے روز دارالحکومت بيجنگ ميں ايران اور چين کے وفود کي نشست کے آغاز پر ايران کے صدر محمود احمدي نژاد کے سرکاري استقبال کے پروگرام ميں کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو فروغ دينے اور تعاون ميں گہرائي لانے کے ليے جناب احمدي نژاد کي کوششيں قابل تعريف ہيں-
انہوں نے اسي طرح پرامن جوہري توانائي کے استعمال کو اسلامي جمہوريہ ايران کا مسلمہ حق قرار ديا اور کہا کہ بيجنگ کے خيال ميں ايران کے ايٹمي مسئلے کے سلسلے ميں مشترکہ نکات تک رسائي کي واحد راہ گفتگو ہے اور وہ کسي بھي قسم کي پابندي، دباؤ اور دھمکي کا پرزور مخالف ہے- چين کے صدر نے تہران اور بيجنگ کے تعلقات اور تعاون کو فروغ دينے کے ليے اپنے ايراني ہم منصب کي کوششوں کو سراہا -