
ڈاکٹر احمدي نژاد کي روسي صدر کے ساتھ ملاقات:
ايران اور روس کے درميان تعاون کا فروغ ،پورے خطے ميں سلامتي کا ضامن ہے
صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے آج (جمعرات کو) بيجنگ ميں شنگھائي سربراہي اجلاس ميں شرکت کرتے ہوئے روس کے صدر ولادي مير پوتين کے ساتھ بهي ملاقات کي- انہوں نے اس ملاقات ميں دو طرفہ روابط اور باہمي دلچسپي کے علاقائي اور عالمي مسائل پر تبادلہ خيال کيا ہے۔
ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے اس ملاقات ميں روس کو ايران کا دوست ملک قرار ديتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک ايک دوسرے کے ساتھ مثبت اور تعميري تعاون کرتے چلے آرہے ہيں۔
ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے کہا کہ دونوں ملکوں کا ماضي اور مستقبل اس بات کامتقاضي ہے کہ ايران اور روس ايک دوسرے کے ساتھ تعلقات کو فروغ دينے کي کوشش کريں۔ انہوں نے واضح کيا کہ عالمي تقاضوں کے مطابق آپس ميں تعلقات کومضبوط بنانا چاہيے۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ بعض قوتيں ايران روس تعلقات کے فروغ پر خوش نہيں ہيں اور اب ان کے عزائم مشرق کي سمت بڑھتے چلے جارہے ہيں آج دنيا ميں ايسے لوگ ہيں جو دونوں ممالک کي ترقي اورپيشرفت کے خلاف ہيں ليکن ايران اور روس کے درميان تعاون کا فروغ نہ صرف دونوں ملکوں کے عوام بلکہ پورے خطے کي سلامتي کي ضمانت بن سکتا ہے۔ صدر ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ تہران اور ماسکو عالمي سطح پر ايک ہي محاذ پر کھڑے ہيں-
صدر مملکت نے روس کے صدر ولادي مير پوتين کو دوبارہ صدرمنتخب ہونے پر مبارک باد پيش کي۔
روس کے صدر نے اس ملاقات ميں ايران کو اپنے ملک کا قديم دوست اور اچھا ہمسايہ قرار ديتے ہوئے کہا کہ ماسکو ايراني قوم کے ماضي اور مستقبل کے لئے انتہائي احترام کا قائل ہے اور تمام بين الاقوامي معاملات و مسائل کے بارے ميں تہران کے ساتھ مسلسل رابطے ميں ہے۔
صدر ولادي مير پوتين نے يہ بات زور ديکر کہي کہ ان کا ملک ايٹمي توانائي کے پرامن استعمال کو اسلامي جمہوريہ ايران کا مسلمہ حق سمجھتا ہے اور عام تباہي پھيلانے والے ہيتھياروں کے خاتمے کے بارے ميں ايران کے نظريات سے پوري طرح متفق ہے۔ روسي صدر نے ايران کے ايٹمي مسئلے کو پر امن طريقے سے حل کرنے کي تاکيد کي اور واضح کيا کہ ہم نے ہميشہ بين الاقوامي اداروں ميں ايراني موقف کي حمايت کي ہے۔ اور اس اميد کا اظہار کيا کہ دونوں ممالک اقتصادي حوالے سے آپس ميں تعاون اورتعلقات کو مزيد آگے بڑھائيں گے۔