
صدر احمدي نژاد کي مصر کے صحافيوں کي ايک ٹيم سے بات چيت:
ايران اور مصر کو دنيا ميں توحيد اور عدالت کے فروغ کے سلسلے ميں متحد اور پيش قدم ہونا چاہيے-
صدرِ مملکت نے اس بات پر زور ديا کہ آج پوري دنيا ميں امام خميني (رہ) کے افکار بڑي تيزي کے ساتھ پھيل رہے ہيں،لوگ بيدار ہو چکے ہيں اور ممالک کے درميان فاصلے گھٹتے جا رہے ہيں، ان حالات ميں مصر جيسے آزاد اور مختارممالک کو دوسروں سے پيش قدم ہونا چاہيے اور انہيں ديگر ممالک کي رہنمائي کرني چاہيے۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے مصر ميں ميڈيا کے حوالے سے کام کرنے والوں کي ايک ٹيم جو امام خميني کي تئيسويں برسي ميں شرکت کي غرض سے ايران آئي ہے ، ان کے ساتھ بات چيت کرتے ہوئے کہا کہ مصر کي عوام کے ساتھ ہميں دِلي لگاؤ ہے
کيونکہ اسلامي جمہوريہ ايران اور مصر دونوں ہي اعليٰ تہذيب و تمدن کے حامل ہيں اور انہيں عالمي سطح پر تہذيب و تمدن کے حوالے سے اہم مقام و حيثيت حاصل ہے، جس کے باعث ہمارے درميان بڑي گہري وابستگي پائي جاتي ہے۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے مزيد کہا علاقے کي قوموں کي تمام مشکلات کي جڑ صہيوني رياست اور عالمي مستکبرين کا وجود ہے۔ کئي عشرے قبل بعض لوگوں نے غلطي کي اور مغربي قوتيں ہمارے علاقے ميں گھس آئيں اور بعض دوسروں نے غلطي کا ارتکاب کرتے ہوئے ان کا ساتھ ديا اور ان لوگوں کا ساتھ اس بات کا باعث بنا کہ مغربي طاقتيں ايک صدي تک ہمارے علاقے پر مسلط ہوئيں۔
اگر آج علاقہ استبدادي ہے اور اگر علاقے کے ممالک ميں استبدادي حکومتوں اور آمروں کي حکمراني ہے تو اس کي جڑ صہيوني ہيں؛ کن قوتوں نے آمروں کے ہمارے علاقے کے ممالک کے مد مقابل لا کھڑا کيا؟ اور يہ آمر اور بادشاہ اور مستبدين کن لوگوں کے ساتھ خفيہ اجلاسوں ميں ملتے تھے؟ اور علاقے کے ڈکٹيٹروں کو کن قوتوں نے ہتھياروں سے ليس کيا ہے؟
صدرِ مملکت نے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران کو مصر کے ساتھ دوستي پر فخر ہے اور وہ مصر کي ترقي اور کاميابي کو اپني ترقي اور کاميابي سمجھتے ہيں، لہذا اميد ہے کہ دونوں ممالک اتحاد اور يکجہتي کےساتھ معاشرے کو کمال اور عروج کےمنزل تک پہنچانے ميں مزکزي کردار ادا کريں گے۔