ڈاکٹر احمدي نژاد کا فرانس کے" ٹونٹي فورچينل" کو انٹريو:<br /> يورينيم کي بيس فيصد افزودگي کو مذاکرات کيلئے محورِ بحث قرار دينے سے دوطرفہ ہمکاري اور تعاون کيلئے راستہ مزيد ہموار ہو جائے گا<br />
جمعه 14 December 2012 - 10:48
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español

صدرِمملکت نے فرانس کے " ٹونٹي فورچينل" کو انٹريو ديتے ہوئے کہا ہے کہ يورينيئم کو بيس فيصد تک افزودہ کرنا ايران کا بنيادي اور اصولي حق ہے البتہ ہميں اس حد تک يورينيئم افزودگي ميں بھي کوئي خاص دلچسپي نہيں تھي ليکن جب ہميں ملکي ضروريات پوري کرنے کيئے اس مقدار ميں يورينيئم افزودگي کي ضرورت محسوس ہوئي تو ہم نے بين الاقوامي ايٹمي ايجنسي کو اپنے موقف سے آگاہ کيا حالانکہ بين الاقوامي ايٹمي قوانين کے مطابق ہمييں بغير کسي شرط کے اس کام کي اجازت ديني چاہيے تھي چونکہ ہمارا ملک اين پي ٹي کاعضو تھا ليکن انہوں نے ہمارا اصولي حق ماننے سے انکار کر ديا اور ہمارے سامنے سياسي شرائط رکھے گئے۔

ڈاکٹر احمدي نژاد کا فرانس کے"

ٹونٹي فورچينل" کو انٹريو:
يورينيم کي بيس فيصد افزودگي کو مذاکرات کيلئے محورِ بحث قرار دينے سے دوطرفہ ہمکاري اور تعاون کيلئے راستہ مزيد ہموار ہو جائے گا

صدرِمملکت نے فرانس کے " ٹونٹي فورچينل" کو انٹريو ديتے ہوئے کہا ہے کہ يورينيئم کو بيس فيصد تک افزودہ کرنا ايران کا بنيادي اور اصولي حق ہے البتہ ہميں اس حد تک يورينيئم افزودگي ميں بھي کوئي خاص دلچسپي نہيں تھي ليکن جب ہميں ملکي ضروريات پوري کرنے کيئے اس مقدار ميں يورينيئم افزودگي کي ضرورت محسوس ہوئي تو ہم نے بين الاقوامي ايٹمي ايجنسي کو اپنے موقف سے آگاہ کيا حالانکہ بين الاقوامي ايٹمي قوانين کے مطابق ہمييں بغير کسي شرط کے اس کام کي اجازت ديني چاہيے تھي چونکہ ہمارا ملک اين پي ٹي کاعضو تھا ليکن انہوں نے ہمارا اصولي حق ماننے سے انکار کر ديا اور ہمارے سامنے سياسي شرائط رکھے گئے۔

خبر کا کوڈ: 38423 - 

جمعه 01 June 2012 - 13:50

انہوں نے ماسکو ميں ہونے والے مذاکرات پر بحث کرتے ہوئے اميد ظاہر کي کہ ايران اور پانچ جمع ايک کے درميان مذاکرات مفيد ثابت ہوں گے ليکن پھر بھي ہميں کسي خاص معجزہ کا انتظار نہيں ہے تاہم مذاکرات مثبت اور تعميري سوچ کے ساتھ ہونے چاہئيں-

بحالي اعتماد کے بارے ميں پوچھے گئے ايک سوال کے جواب ميں صدر مملکت نے کہا کہ بےاعتمادي دوطرفہ ہے لہذابحالي اعتماد کا عمل دونوں طرف سے ہونا چاہئے - انہوں نے کہا کہ بحالي اعتماد کے لئے ہميں قوانين کے دائرے ميں رہتے ہو‏ئے بات چيت کرنا ہوگي اور تعاون کا ماحول تيار کرنا ہوگا-

روسي صحافي کے اس سوال کے جواب ميں کہ ايران اور بين الاقوامي ايٹمي ايجنسي کے مابين اعتماد کيسے بحال ہو سکتا ہے؟ صدر احمدي نژاد کا کہنا تھا کہ اعتماد کي فضا دونوں فريقوں کے تعاون سے بحال ہو سکتي ہے اور اس

کيلئے دونوں فريقوں کو ايک دوسرے کا احترام رکھنا ہوگا، لہذا يہ مذاکرات تب کسي مثبت نتيجے پر ختم ہو سکتے ہيں جب يہ ايران کے خلاف گستاخانہ اور دھمکي آميز لہجہ بند کر دے۔

صدرڈاکٹر محمود احمدي نژاد نےاس گفتگو ميں استفسار کيا کہ کيا ايٹم بم رکھنے والےمغرب پر اعتماد کيا جاسکتاہے؟ انہوں نے کہا کہ دنيا بتائے کہ يورينيئم کي بيس في صد افزودگي زيادہ خطرناک ہے يا ايٹم بم زيادہ خطرناک ہيں؟

ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے کہا کہ ايسے ممالک موجود ہيں جن کے پاس ايٹم بم موجود ہے اور وہ کئي دہائيوں سے قتل و غارت کا بازار گرم رکھا ہے اور مسلسل مسلمہ انساني حقوق کي خلاف ورزي کے مرتکب ہو رہے ہيں حالانکہ اسلامي جمہوريہ ايران نے بارہا اپنا موقف واضح کيا ہے کہ وہ ايٹم بم بنانے کا قطعي مخالف ہے اور ايران کي سابقہ تاريخ بھي اس حوالے سے نہايت صاف اورشفاف ہے۔ صدرمملکت نے يورپي ملکوں کو مشورہ ديا کہ وہ ايران کے تعلق سے اپنے لب و لہجے کو تبديل کرے

ڈاکٹر احمدي نژاد نے اسرائيل کي جانب سے ممکنہ حملے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب ميں کہا کہ ايراني عوام نے ہميشہ سے دشمنوں کو مايوس کيا ہے اور ان کے ناپاک عزائم خاک ميں ملا ديے ہيں- صدرڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے مزيد کہا کہ اگر ہم اسرائيل کے خلاف ايسي دھمکياں ديتے تو مغرب کا ردعمل کيا ہوتا؟ انہوں نے کہا کہ دنيا کي ساري مشکلات ايسے ہي دوہرے معياروں کي وجہ سے ہيں-

انہوں نے کہا کہ مغربي ممالک کے پشت پناہي اور حمايت سے صدام نے ايران کے اوپر حملہ کيا تھا اور وہ اپنا انٹريو يہ کہہ کر ادھورہ چھوڑا تھا کہ باقي گفتگو ايراني دالحکومت تہران ميں ہوگي ليکن ذرا نظر گھما کر ديکھيے اب صدام کہاں ہے؟اور ايران کس مقام پر پہنچا ہے؟ بہرحال ميں ايک مرتبہ پھر زور ديتا ہوں کہ ان تمام مسائل پر سنجيدگي سے غور کرنے کي ضرورت ہے۔

ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے عالمي برادري کے سامنے يہ سوال رکھتے ہوئے کہا کہ کيوں مغربي ممالک کا سارا پيسہ صيہونيوں پر خرچ ہو رہا ہے اور جب صيہوني حکام ايران کو بلاجواز دھمکياں ديتے ہيں تو کيوں مغربي ممالک خاموش تماشائي بنے ہوئے ہيں اور وہ اسے عالمي قوانين کي خلاف ورزي نہيں سمجھتے؟! اور کيوںاسرائيل بے گناہ فلسطينيوں کا خون بہا رہے ہيں اور عالمي برادري ٹس سےمس نہيں ہو رہي؟! يہ تمام باتيں غور طلب ہيں۔

خبر کا کوڈ: 38423  

- تقاریر