ڈاکٹر احمدي نژاد کا فارسي کے مشہور شاعر فردوسي سے تجليل کے سلسلے ميں منعقدہ تقريب سے خطاب: فردوسي نے اپنے اشعار کے ذريعہ ايران کي عدالت خواہ اور حق شناس قوم کي بيداري ميں اہم کردار ادا کيا<br />
جمعه 14 December 2012 - 10:48
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español

صدرِ مملکت نے کہا کہ فارسي ادب کے مشہور شخصيت فردوسي نے اپنے اعليٰ الٰہي افکار کو اشعار کے پيرائے ميں ڈال کر ايران کي عدالت خواہ اور حق شناس قوم کي بيداري ميں اہم کردار ادا کيا۔

ڈاکٹر احمدي نژاد کا فارسي کے مشہور شاعر فردوسي سے تجليل کے سلسلے ميں منعقدہ تقريب سے خطاب:

فردوسي نے اپنے اشعار کے ذريعہ ايران کي عدالت خواہ اور حق شناس قوم کي بيداري ميں اہم کردار ادا کيا

صدرِ مملکت نے کہا کہ فارسي ادب کے مشہور شخصيت فردوسي نے اپنے اعليٰ الٰہي افکار کو اشعار کے پيرائے ميں ڈال کر ايران کي عدالت خواہ اور حق شناس قوم کي بيداري ميں اہم کردار ادا کيا۔

خبر کا کوڈ: 38367 - 

منگل 29 May 2012 - 22:17

ڈاکٹر احمدي نژاد نے منگل کي شام دارالحکومت تہران ميں فردوسي سے تجليل کے سلسلے ميں منعقدہ تقريب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تاريخ ميں اس وقت تک کوئي فکر و انديشہ مانگار اور جاويداں نہيں رہتي جب تک اس مکتبِ فکر کے پيروکار اس فکرکے پھيلانے کيلئے قربانياں نہ ديں۔

صدرِمملکت نے بعض لوگوں کا يہ تاثر غلط قرار ديا کہ سب سے پہلے فردوسي نے فارسي ادب کو زندہ کيا ہے-

ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ فردوسي سے پہلے رودکي نے فارسي ادب کي تشہير ميں بنيادي کردار کيا تھا کيونکہ تاريخي نقطہ نظر سے ابوالقاسم فردوسي غيبتِ کبريٰ کے زمانے ميں پيدا ہوئے تھے اور فردوسي کي ولادت غيبتِ کبريٰ کے زمانے ميں ہوئي تھي ليکن ان دونوں شخصيات کا لوگوں تک پيغمبراکرم (ص) کا الٰہي پيغام پہنچانے اور انہيں خودي کا درس دينے کے حوالے سے نہايت اہم کردار ہے اور پھر فردوسي کي شخصيت صرف شاہنامہ تک محدود نہيں ہے، اگر ہميں فردوسي کي عالمگير شخصيت کو سمجھنا ہے تو اس کيلئے ايراني قوم کي بيداري ميں فرودسي کے کردار پر غور کرنا ہوگا، بلاشبہ فردوسي کا ہمارے اوپر بہت بڑا حق ہے۔

ڈاکٹر احمدي ںژاد نے کہا کہ فردوسي کے بعد ايراني قوم کي ترقي اور شکوفائي کا دور شروع ہوا اور انہوں نے ايسا ماحول فراہم کيا کہ اس سرزمين نے حافظ، خاقاني، وحشي، مولوي اور خيام جيسي شخصيات جنم لئے-

ڈاکٹر احمدي نژاد نے خطاب کے اخر ميں ايک مرتبہ بھر اس بات پر زور ديا کہ فردوسي نے اپنے اعليٰ افکار کے ذريعہ لوگوں کو خوابِ غفلت سے جھگايا اور ايراني قوم کے ہاتھوں ميں توحيد، عدالت اور آزادي کا پرچم ديا اور آج ايراني قوم عالمي سطح پراس پرچم کي سربلندي کيلئے کوششوں ميں سرگرمِ عمل ہے۔

خبر کا کوڈ: 38367  

- عوامی ملاقاتیں