آفريقي ممالک کے سفيروں کي ڈاکٹر احمدي نژاد کے ساتھ ملاقات: ايران اور آفريقي ممالک کے تعاون سے پوري دنيا پر اچھے اثرات مرتب ہونگے<br />
جمعرات 16 May 2013 - 11:01

صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے تہران ميں مقيم افريقي ملکوں کے سفيروں کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا: دنيا کو منصفانہ اور دوستانہ بنيادوں پر قائم نئے نظام کي ضرورت ہے- نيا عالمي نظام ايسا ہونا چاہيے جس ميں تمام قوموں اور ملکوں کو منصفانہ بنيادوں پر کردار ادا کرنے کا موقع ديا جائے-اور ضروري ہے کہ تمام ممالک اس عادلانہ نظام کي سمت چلنے اور اسے عملي جامہ پہنانے کيلئے تلاش اور کوشش کريں اور يہ وہ خواہش ہے جو عوام اور ملتوں کے امنگوں ميں پوشيدہ ہے۔

آفريقي ممالک کے سفيروں کي ڈاکٹر احمدي نژاد کے ساتھ ملاقات:

ايران اور آفريقي ممالک کے تعاون سے پوري دنيا پر اچھے اثرات مرتب ہونگے

صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے تہران ميں مقيم افريقي ملکوں کے سفيروں کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا: دنيا کو منصفانہ اور دوستانہ بنيادوں پر قائم نئے نظام کي ضرورت ہے- نيا عالمي نظام ايسا ہونا چاہيے جس ميں تمام قوموں اور ملکوں کو منصفانہ بنيادوں پر کردار ادا کرنے کا موقع ديا جائے-اور ضروري ہے کہ تمام ممالک اس عادلانہ نظام کي سمت چلنے اور اسے عملي جامہ پہنانے کيلئے تلاش اور کوشش کريں اور يہ وہ خواہش ہے جو عوام اور ملتوں کے امنگوں ميں پوشيدہ ہے۔

خبر کا کوڈ: 38226 - 

هفته 26 May 2012 - 13:27

ڈاکٹر احمدي نژاد نے آج (ہفتہ کو) افريقہ کے عالمي دن کي مناسبت سے افريقي ممالک کے سفيروں کے ساتھ ايک ملاقات ميں اظہار کيا:کہ يہ دن اس قديم تاريخي افريقہ کي ياد دلاتا ہے جو ثقافت اورصلاحيتوں سے سرشارہے اوراس کے باشندے ہميشہ آزادي،عدالت، پيش رفت اورعزت کي کوشش ميں ہيں۔

انہوں نے کہا: افريقہ کي تاريخ آزادي کي تحريکوں سے بھري پڑي ہے اوريہ لوگ ہميشہ بين الاقوامي نظام ميں اپني حيثيت پيدا کرنے کيلئے جدوجہد کرتے رہے ہيں۔

ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا: تاريخ ميں استعماري طاقتوں نے اس خطے کے ذخائر کو لوٹاہے اور بہت ساري جنگيں اس خطے ميں مسلط کي ہيں جو کہ انسانيت کيلئے افسوسناک ہے۔ انہوں نے مزيد کہا کہ افريقہ کے علاوہ دنيا کے بہت سارے علاقوں ميں يہي صورت حال ہے۔ لاطيني امريکہ ميں بھي يہي کچھ ہو رہا ہے؛ اس کے با وجود کہ يہ علاقہ قدرتي وسائل سے مالامال ہے پھر بھي وہاں کے لوگ غربت کي زندگي بسر کر رہيں ہيں اوران کے معدني ذخائر عالمي مستکبرين اور سرمايہ داروں کي جيبوں ميں جا رہيں ہے ۔

انہوں نے مزيد وضاحت کرتے ہوئے کہا: آج کي دنيا کي تقديرچند سرمايہ داروں کے ہاتوں ميں ہے جو عالمي اداروں پر مسلط ہيں ۔ جس ملک ميں چاہيں فوجي اڈے بنائيں اور جس ملک پر چاہيں حملہ کريں۔ موجودہ عالمي نظام سے سب کو شکايت ہے اور منصفانہ عالمي نظام کے قيام کا مطالبہ عالمي حيثيت اختيار کرتا جارہا ہے-

ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا: ہر ملت کي يہ خوہش ہوتي ہے کہ وہ پيشرفت کرے اور اپني عوام کيلئے رفاي عامہ کے اسباب فراہم کرے اور دنيا کے تمام لوگ زندگي کي بہترين سہوليات سے ہمکنار ہوں۔ عالمي عدالت کا معني يہ ہے کہ ہر ملک کے ذخاہر اسي ملک کے لوگوں کے اختيار ميں ہو تاکہ وہ اپنے ملک کو آباد کر سکيں۔

ڈاکٹر احمدي نژاد نے مزيد کہا: ہم سب کو کوشش کرنا چاہيے کہ دنيا ميں ايک ايسا سياسي نظام قائم ہو جو انسانوں کو امن و سکون اور احترام فراہم کرے اور اللہ تعالي کے فضل و کرم سے يہ ممکن ہے کيونکہ يہ الہي وعدہ ہے۔ اگر تمام ممالک ايک دوسرے کے ہاتھوں ميں ہاتھ ديں يقيني طور پر ايک بہترين نظام قائم کر سکتے ہيں۔

صدر مملکت نے اس تقرير ميں افريقي ممالک کيلئے نيک خواہشات کا اظہار کيا اور اس دن کي مناسبت سے ان کو مبارکباد پيش کي۔ انہوں نے اس اميد کا اظہار کيا کہ اسلامي جمہوريہ ايران افريقي ممالک کے حکمرانوں کے ساتھ مل کرتمام تر کوششوں کو بروي کار لائيں گے تاکہ ملتوں کي ترقي کيلئے راہستہ ہموا رہو سکے۔

اس پروگرام ميں مالي کي سفير نے شيخ السفراء کے عنوان سے اپنے بيانات ميں بتايا: کہ افريقي ممالک کے سفير اسلامي جمہوريہ ايران کے ساتھ تعلقات اور روابط کومضبوط اور مستحکم بنانا چاہتے ہيں اور يہ تعلقات دونوں ممالک کے آپس ميں مفادات پر مبني ہونا چاہيے۔ اس نے صدر ڈاکٹر احمدي نژاد کي اس سلسلے ميں تلاش او کوششوں کا شکريہ ادا کيا اور کہا: اسلامي جمہوريہ ايران ايک قديم اور عظيم تہذيب و تمدن کا مالک ہے ۔ دونوں طرف کو چاہيے کہ اپني توانائيوں کو مد نظر رکھتے ہوہے آپس ميں تعلقات کومزيد وسعت دينے کيلئے موثر اقدامات انجام ديں۔

اس ملاقات ميں افريقي ممالک سے،جنوبي افريقہ،کنيا،سوڈان،نائيجريہ،الجزائر،کومور،يوگنڈا، مالي، زمبابوے ، کوت داوواغ ، سيراليون کے سفير اور بعض ممالک ،گينہ،نائيجريہ، ليبيا، سوماليہ، گھانا،مصر،موريتانيہ کےنمائندے شامل تھے

خبر کا کوڈ: 38226  

- غیرملکی ملاقاتیں اوردورے