
صدر احمدي نژاد کا بعض اراکين پارليمنٹ سےخطاب:
اتحاد ، يکجہتي اور تلاش و جد و جہد کے ذريعہ ترقي کے ميناروں تک پہنچا جاسکتا ہے
ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ حکومت اور پارليمنٹ کے درميان کوئي اختلاف نہيں لہذا پختہ عزم و يقين اور باہمي اتحاد و يکجہتي کے ذريعہ ملک کي تعمير و ترقي کي جانب مؤثر قدم اٹھايا جا سکتاہے۔
صدرِ مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے اتوار کے دن بعض اراکينِ پارليمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ايران کو مختلف چيلنجوں کا سامنا ہے جن ميں سے بين الاقوامي سطح پر درپيش مشکلات ، ملک سے بے روزگاري کا خاتمہ، ذراعت، صنعت اور تجارت کے شعبوں ميں فروغ ملک کے اہم ترين مسائل شمار ہوتے ہيں جن کے حل کے حوالے سے ملک کے مسئولين مل بيٹھ کر اہم تجاويز زيرِ غور لا سکتے ہيں۔
صدرِ مملکت نے کہا کہ دوسال کے اندر ہي ملک سے بے روزگاري کا خاتمہ ممکن ہے تاہم اس کيلئے باہمي يکجہتي اور تعاون کي ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت پارليمنٹ کے اختيارات ميں مداخلت نہيں کرنا چاہتي کيونکہ دونوں اداروں کے اختيارات اور ذمہ دارياں قانوني اعتبار سے معين ہيں۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے اس بات پر زور ديا کہ الہيٰ مشن کو دنيا والوں تک پہنچانے کے حوالے سے ہمارے کندھوں پر بھاري ذمہ داري عائد ہورہي ہے جو ہمارے اسلامي انقلاب کا بنيادي مقصد بھي ہے، انہوں نے کہا کہ اگر جب تک اس الٰہي مکتب کے پيروکار معنوي اعتبار سےاپنے آپ کي اصلاح نہ کرے اس وقت وہ معاشرے کو فلاح و سعادت کي راہ نہيں دِکھلا سکتے۔
انہوں نے کہا کہ تمام انبياء اور آئمہ طاہرين عليہم السلام نےپوري زندگي عوام اور معاشرے کي خدمت کيلئے وقف کي تھي اور امام خميني (رہ) نے بھي اسي پاکيزہ فکر کے ذريعہ سے عوام کے دلوں پر قبضہ کيا تھا اب يہ ہماري ذمہ داري ہے کہ ان ظاہري عہدوں سے ناجائز فائدہ اٹھانے کي کوشش نہ کريں،انہوں نے مزيد کہا کہ ہميں اپنے کردار اور گفتار کے ذريعہ اسلامي اقدار سے دفاع کرنا چاہيے۔
صدرِ مملکت نے اخر ميں پارليمنٹ کے منتخب اراکين کو اس بات کي ياددہاني کرائي کہ تمہيں معاشرے ميں جہاں کہيں بھي ظلم و نا انصافي نظر آئے تو اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہو جاؤ کيونکہ ہم نے عہدہ سنبھالتے وقت اللہ تعاليٰ کے حضور اس چيز کي قسم کھائي ہے اور انشاء اللہ ہم نے اخر تک اس عہد پر ثابت قدم رہنا ہے۔