
صدر کا صوبہ خراسانِ رضوي کے دورے کے موقع پر خليل آباد ميں عوامي اجتماع سے خطاب:
استکباري طاقتوں کي انساني حقوق کي خلاف ورزيوں کا سبب يہ ہے کہ وہ عقل و فکر کي پيروي نہيں کرتے
صدرِ مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ استکباري طاقتوں کي جانب سے انساني حقوق کي مسلسل خلاف ورزيوں کا سبب عقل و فکرسے کام نہ لينا ہے، انہوں نے کہا کہ دنيا کے تمام مشکلات کي جڑ وہ استکباري طاقتيں ہيں جو عقل جيسي نعمت سے محروم ہيں، يہ ايسے لوگ ہيں جنہوں نے ظلم و ستم کا بازار گرم رکھا ہےاور اپنےناپاک عزائم تک پہنچنے کيلئے کسي بھي جنايت سے دريغ نہيں کرتے۔
صدرِ مملکت نے ہفتہ کے دن حکومتي کابينہ کے ہمراہ صوبہ خراسانِ رضوي کے دورے کے تيسرے دن خليل آباد ميں عوامي اجتماع سے خطاب کے دوران عقل و فکر کو اللہ تعاليٰ کي سب سے بڑي نعمت قرار ديا اور کہا کہ تمام اچھے اور پسنديدہ افعال ميں ضرور کوئي عقلي پہلو پايا جاتا ہے-
ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ عاقل انسان کي ايک نشاني حسنِ خلق ہے جب ہم استکباري طاقتوں کي رفتار پر سوچتےہيں تو ہميں يہ بات واضح ديکھائي ديتي ہے کہ ديگر ممالک کے حوالے سے استکباري طاقتوں کے رفتار ميں عقل و فکر کا نام و نشان تک ديکھائي نہيں ديتا-
ڈاکٹر احمدي نژاد نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ استکباري طاقتيں اپنے ناپاک عزائم تک پہنچنے کيلئے اخلاق کے دائرے سے باہر ہو کرانساني حقوق پائمال کرتے رہتے ہيں اور اس کے باوجود عقل و خرد کے بھي دعويدار ہيں! حالانکہ عاقل لوگ کبھي بھي دوسروں کو تکليف پہنچانا پسند نہيں کرتے-
انہوں نے استکباري طاقتوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ تمہيں ايران کے متعلق اپنا رويہ اصلاح کرنا پڑے گا ورنہ تمہيں يہ جان لينا چاہيے کہ ايراني قوم اپنے بنيادي حقوق سے ايک قدم بھي پيچھے ہٹنے کو تيار نہيں۔