صدرِمملکت نے تہران ميں منعقدہ " ايران کا دنيا کيلئے صلح اور دوستي کا پيغام کانفرنس" کے موقع پر کہا:<br /> عالمي سطح پر پائيدار امن و صلح دوسروں کي نسبت عدل و انصاف اورپيار و محبت کے جذبے سے قائم ہو سکتي ہے<br />
جمعه 14 December 2012 - 10:42
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español

صدرِ مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے اس بات پر زور ديا کہ عالمي سطح پر پائيدار امن و صلح دوسروں کي نسبت عدل و انصاف اورپيار و محبت کے جذبے سے قائم ہو سکتي ہے، انہوں نے کہا کہ دنيا ميں وہ لوگ صلح اور امن و امان قائم کر سکتے ہيں جن کے دل دوسروں کيلئے ايثار اور عشق و محبت کا جذبے سے سرشارہو۔

صدرِمملکت نے تہران ميں منعقدہ "

ايران کا دنيا کيلئے صلح اور دوستي کا پيغام کانفرنس" کے موقع پر کہا:
عالمي سطح پر پائيدار امن و صلح دوسروں کي نسبت عدل و انصاف اورپيار و محبت کے جذبے سے قائم ہو سکتي ہے

صدرِ مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے اس بات پر زور ديا کہ عالمي سطح پر پائيدار امن و صلح دوسروں کي نسبت عدل و انصاف اورپيار و محبت کے جذبے سے قائم ہو سکتي ہے، انہوں نے کہا کہ دنيا ميں وہ لوگ صلح اور امن و امان قائم کر سکتے ہيں جن کے دل دوسروں کيلئے ايثار اور عشق و محبت کا جذبے سے سرشارہو۔

خبر کا کوڈ: 37405 - 

جمعرات 03 May 2012 - 14:13

ڈاکٹر احمدي نژاد نے جمعرات کو تہران ميں "ايران کا دنيا کيلئے صلح اور دوستي کا پيغام"کے زير عنوان منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امن اور صلح کا حصول بشريت کي ديرينہ آرزو رہي ہے يہي وجہ ہے کہ وہ ہر دور ميں اس مقصد تک پہنچنے کيلئے مختلف کوششيں کرتے رہے-

ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ صلح اور امن و امان اتني زيادہ اہميت کا حامل ہے کہ دنيا کے سب سے بڑے ڈکٹيٹر بھي اپني جنايات کيلئے جواز فراہم کرنے کيلئے اسي بہانہ تراشي سے کام ليتے ہيں کہ ہم يہ سب کچھ معاشرے ميں امن وصلح لانے کيلئے کر رہے ہيں، انہوں نے کہا کہ جب تک لوگوں ميں ايک دوسرے کي نسبت پيار اور محبت کا جذبہ پيدا نہ ہو جائے اس وقت تک ہرگز معاشرے ميں امن اور عدل و انصاف کي فض اقائم نہيں ہو سکتي۔

صدرِمملکت نے اس بات پر زور ديا کہا کہ معاشرے ميں اب تک جو حقيقي طور پر امن و امان قائم نہيں ہواہے اسکي وجہ وہ اس استعماري طاقتيں ہيں جن کے دل دوسروں کي نسبت پيار و محبت کے جذبے کي بجائے حسد، امتيازي سلوک اور قتل و غارت جيسے مذموم صفات سے آلودہ ہو چکے ہيں۔

انہوں نے کہا کہ يقينا اس معاشرے کا بھاگ دوڑ ايسے افراد نہيں سنبھال سکتے جو پيسے کي خاطر ليبارٹري ميں تجربے کرکے طرح طرح کي بيمارياں توليد کرتے ہيں اور پھر اس بيماريوں کے توڑ کيلئےادويات فروخت کرتے ہيں يا انتخابات ميں کاميابي کي خاطر دوسروں پر جنگ مسلط کرکے لاکھوں بے گناہ افراد کا خون بہاتے ہيں جبکہ اس کے برعکس تمام انبياء کرام نے معاشرے ميں امن و صلح قائم ہونے کيلئے کسي بھي قرباني سے دريغ نہيں کيا اور ہر زمانے کے سامراج انبياء کے راستے ميں رکاؤٹيں ڈالتے رہے، بہرحال انبياء کا يہ مشن جاري و ساري ہے اور اللہ تعاليٰ نے ستم ديدہ اور مظلوم عوام سے يہ وعدہ کيا ہے کہ اخرکار ايک مسيحا اور نجات دہندہ آئے گا جو لوگوں کو ظلم و ستم سے نجات دلوائے گا تب معاشرے ميں حقيقي طور پر امن اور صلح قائم ہوگي۔

خبر کا کوڈ: 37405  

- عوامی ملاقاتیں