ڈاکٹر احمدي نژاد نے تہران کے سالانہ پچيسويں بين الاقوامي " کتاب فيسٹيول" کي افتتاحي تقريب کے موقع پر کہا:<br /> تہران کا سالانہ کتاب فيسٹيول عنقريب بين الاقوامي ثقافتي ميلے کي حيثيت اختيار کرے گا<br />
جمعرات 16 May 2013 - 10:55

صدرِ مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژادنے کہا کہ ہميں تہران کا بين الاقوامي فيسٹيول اس انداز ميں منعقد کرنا چاہيے کہ يہ لوگوں کو ان کے روشن مستقبل کي جانب رہنمائي کرے، انہوں نے اميد ظاہر کي کہ انشاء اللہ يہي تہران کا سالانہ کتاب فيسٹيول عنقريب بين الاقوامي ثقافتي ميلےميں تبديل ہو جائے گا اور اس فيسٹيول کے موقع پر مختلف ممالک کے دانشور اپس ميں مل بيٹھ کر معاشرے کے فلاح و بہبود کے حوالے سے تبادلہ خيال کريں گے۔

ڈاکٹر احمدي نژاد نے تہران کے سالانہ پچيسويں بين الاقوامي "

کتاب فيسٹيول" کي افتتاحي تقريب کے موقع پر کہا:
تہران کا سالانہ کتاب فيسٹيول عنقريب بين الاقوامي ثقافتي ميلے کي حيثيت اختيار کرے گا

صدرِ مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژادنے کہا کہ ہميں تہران کا بين الاقوامي فيسٹيول اس انداز ميں منعقد کرنا چاہيے کہ يہ لوگوں کو ان کے روشن مستقبل کي جانب رہنمائي کرے، انہوں نے اميد ظاہر کي کہ انشاء اللہ يہي تہران کا سالانہ کتاب فيسٹيول عنقريب بين الاقوامي ثقافتي ميلےميں تبديل ہو جائے گا اور اس فيسٹيول کے موقع پر مختلف ممالک کے دانشور اپس ميں مل بيٹھ کر معاشرے کے فلاح و بہبود کے حوالے سے تبادلہ خيال کريں گے۔

خبر کا کوڈ: 37377 - 

منگل 01 May 2012 - 19:38

ڈاکٹر احمدي نژاد نے منگل کي شام تہران ميں پچيسويں بين الاقوامي "کتاب فيسٹيول" کي تقريب کے موقع پر کہا کہ يہ ايک ثقافتي ميلہ ہوتا ہے جس ميں ہر سال دنيا بھر سے بڑي تعداد ميں دانشور اورصاحبان فکر اکھٹے ہو جاتے ہيں اور ان کے درميان رابطہ قائم ہونے کا موقع ملتا ہے۔

صدرِ مملکت نے کہا کہ اگر گذشتہ تاريخ کي طرف نظر دوڑائي جائے تو يہ بات بخوبي عياں ہو جاتي ہے کہ گذشتہ زمانے ميں انسانوں کي تمام تر کوششوں کا مقصداعليٰ انساني اقدار کشف کرنا تھا ، اب ہم اپنے اسلاف کے وارث ہيں لہذا انہيں آيندہ نسل تک منتقل کرنا ہماري ذمہ داري ہے۔

ڈاکٹر احمدي نژادنے کہا کہ چند چيزيں ايسي ہيں جو انسان کے کمال و سعادت کا باعث بنتي ہيں، سب سے پہلے وہ چيز جو انسان کے شکوفائي ميں سب سے زيادہ موثر ہے؛ علم ہے، کيونکہ علم کے ذريعہ سے انسان کے دلوں سے گرد و غبار دھويا جا سکتا ہے اور علم کے ذريعہ سے انسان کمال و سعادت حاصل کر سکتا ہے، انہوں نے عشق اور محبت کو کمال تک پہنچنے کيلئے دوسرا عامل قرار ديا اور کہا کہ عشق انسان کو حرکت ميں لاتا ہے اور اس کے اندر پوشيدہ صلاحيتوں کي شکوفائي کا باعث بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ علم اور عشق کے علاوہ عدالت انصاف تيسرا بڑا عامل ہے جو انسان کے رشد و ترقي کيلئے راستہ ہموار کرتا ہے، اورکتاب کے ذريعہ سے يہ تينوں چيزيں معاشرے ميں عام کئے جا سکتے ہيں کيونکہ وہ کتاب قيمتي ہوتي ہے جو علمِ حقيقي کے ساتھ مرتبط ہو اور لوگوں کو حقيقي عشق و عدالت کي طرف رغبت دلائے۔

انہوں نےبين الاقوامي کتاب فيسٹيول منعقد کرنے والوں کا شکريہ ادا کيا جن کي کوششوں سے ايسا بہترين ماحول فراہم ہوا ہے جس ميں مختلف ممالک کے دانشوروں اور صاحبانِ فکر کو ايک دوسرے کے ساتھ ارتباط قائم کرنے کا موقع فراہم ہوا ہے۔

صدرِ مملکت کے خطاب سے پہلےاسلامي جمہوريہ ايران کے وزيرِ ثقافت جناب حسيني نے اس فيسٹيول کے انعقاد کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کي تفصيلي رپورٹ پيش کي اور ڈاکٹر احمدي نژاد نے افتتاحيہ تقريب کے اختتام کے بعد نمائش کےچند سٹالوں کا دورہ بھي کيا۔

خبر کا کوڈ: 37377  

- عوامی ملاقاتیں