
ڈاکٹر احمدي نژاد کے ساتھ ملائشيا کي قومي اسمبلي کے سپيکر کي ملاقات:
ايران اور ملائشيا کے درميان مختلف مسائل ميں ہم فکري سے علاقائي اور بين الاقوامي سطح پر تعاون کيلئے راستہ ہموار ہو رہا ہے
ڈٓاکٹر احمدي نژاد نے منگل کي صبح ملائشيا کي قومي اسمبلي کے سپيکر جناب "تان سري امين حاجي موليا" کے ساتھ ملاقات ميں دونوں ممالک کے درميان تعلقات کو نہايت قريبي اور دوستانہ قرار ديتے ہوئے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران اور ملائشيا کے درميان مختلف مسائل ميں ہم فکري موجود ہے جو علاقائي اور بين الاقوامي سطح پر تعاون ميں نہايت مفيد اور کارساز ثابت ہوگي اور اس سے عالمي سطح پر انصاف اور امن و امان کے فروغ ميں مدد ملے گا۔
صدرِمملکت نے اس بات پر زور ديا کہ اسلامي جمہوريہ ايران اور ملائشيا کے درميان مختلف شعبوں ميں تعاون سے تمام ممالک کو فائدہ پہنچے گا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درميان بڑھتے ہوئے تعلقات بين الاقوامي سطح پر امن و امان اور ترقي ميں مفيد اور کارساز ثابت ہوں گے-
انہوں نے تہران اور کوالالمپور کے درميان اونچي سطح پر اقتصادي روابط کي طرف اشارہ کرتے ہوئے اميد ظاہر کي کہ دونوں ممالک کے حکام کي کوششوں سےتجارتي روابط کي مانندثقافتي اور سياسي روابط کو بھي فروغ ديا جا سکتا ہے۔
ملائشياء کے قومي اسمبلي کے سپيکر جناب "تان سري امين حاجي موليا" نے دونوں ممالک کےدرميان حاليہ روابط پر اطمينان کا اظہار کرتے ہوئے اسلامي جمہوريہ ايران کو خطے ميں تجارتي اعتبار سے اہم پارٹنر قرار ديا اور کہا کہ ملائشيا اسلامي جمہوريہ ايران کے ساتھ تمام شعبوں ميں بغير کسي محدوديت کے تعلقات بڑھانا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملائشيا اسلامي ملک ہونے کے ناطے ايران کے علمي پيشرفت پر فخر محسوس کرتا ہے اور مجھے اس بات پر مکمل بھروسہ ہے کہ ديگر اسلامي ممالک کے دلوں ميں بھي اسلامي جمہوريہ ايران کے بارے ميں يہي پيار اور محبت کا جذبہ ہوگا۔