
ڈاکٹر احمدي نژاد نے "
خليجِ فارس کے تاريخي اسناد"کے نام سے لکھي گئي کتاب کي رونمائي کے موقع پر کہا:
"خليجِ فارس" کا نام ہميں ايران کے عظيم تاريخي ثقافت کي ياد دلاتي ہے-
صدرِ مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ "خليجِ فارس" کا نام ہميں ايران کے عظيم تاريخي ثقافت کا ياد دلاتا ہے اور "خليجِ فارس" کے پرچم تلے مختلف قوميں الٰہي اقدار اور ايراني تہذيب و ثقافت لئےجمع ہوئي ہيں۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے آج(اتوار) دوپہر "خليجِ فارس کے تاريخي اسناد ثبوت" نامي کتاب سے رونمائي کے سلسلے ميں منعقدہ تقريب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس کتاب ميں خليج فارس کے نام کے حوالے سے تاريخي اسناد اکھٹي کي گئي ہيں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ يہ ايک تاريخي اور قديمي اصطلاح ہے جسے مختلف ممالک نے سرکاري طور پر استعمال کيا ہے، يقينا يہ کاوش ايک علمي کام ہے جو دانشمند طبقے کيلئے نہايت مفيد ثابت ہوگا۔
صدرِ مملکت نے کہا کہ 10 اردبيہشت (29 اپريل)کو"يومِ خليج فارس" کا نام اسلئے ديا گيا کيونکہ "خليجِ فارس" ايک عظيم اور تاريخي نام ہے جس کے پرچم تلے مختلف قوميں ايراني تہذيب و ثقافت لئےجمع ہوئي ہيں، انہوں نے کہا کہ تسلط پشند عناصر بہت پہلے سے اس خطے کو زيرِ تسلط لانا چاہتے تھے لہذا ہم ديکھتے تھے کہ وہ ماضي ميں بدامني اور اختلافات کے ذريعہ ان ناپاک اہداف کے حصول کيلئے کوششيں کرتے تھے جبکہ اور آج جنگي بيڑوں اور فوجي اڈوں کے ذريعہ مشرقِ وسطيٰ پر قبضہ جمانا چاہتے ہيں، يہ خودغرض لوگ ہيں جو دوسروں کي خوشي اور آسائش کيلئے معمولي قدم بھي نہيں اٹھاناچاہتے، يہ ہميشہ ذاتي منافع کے پيچھے لگے ہوتے ہيں اور سوچتے رہتے ہيں کہ کس طريقے سے دوسروں کي دولت لوٹي جائے۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے ايراني قوم پوري تاريخ ميں امن و دوستي اور مظلوم اقوام کے حقوق کي حامي رہي ہے، کہا کہ ايراني قوم نے کبھي بھي قومي اقدار کو اسلامي اقدار پر ترجيح نہيں دي ہے اور وہ شروع ہي سے الہي اقدار پر کاربند رہي ہے-
انہوں نے کہا کہ ايراني قوم علم، انسانيت اور ثقافت و تہذيب کي علمبردار رہي ہے اور ايک ايسے وقت ميں جب انسانيت کو کسي بھي وقت سے زيادہ اخلاقيات کي ضرورت ہے، وہ امن و دوستي کي حامي ہے -