صدرِمملکت نے مشہور شاعرشيخ سعدي(عليہ الرحمہ) کي ياد ميں منعقدہ تقريب سے خطاب کے دوران کہا: ايراني علم و ادب کے افق پر شيخ سعدي(عليہ الرحمہ) کا نام ماہِ تابان کي مانند چمک رہا ہے<br />
جمعه 14 December 2012 - 10:40
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español

صدرِ مملکت نے کہا کہ شيخ سعدي شيرازي ايمان اور انساني اقدار کے بالادستي اور ايراني علم و ادب کے حوالے سے ممتاز اورنماياں مقام رکھتا ہے، انہوں نے مزيد کہا کہ ہم نے شيخ سعدي(عليہ الرحمہ) کو شہرہ آفاق حيثيت کے حامل ہونے کے باوجود ٹھيک طرح سے نہيں پہچانا حالانکہ ايران کي ثقافت اور علم و ادب کي تشہير اور رشد و تکامل ميں شيخ سعدي شيرازي کا بہت اہم اوربنيادي کردار ہے۔ ايراني علم و ادب کے رشد و تکامل ميں شيخ سعدي کا بنيادي کردار ہے

صدرِمملکت نے مشہور شاعرشيخ سعدي(عليہ الرحمہ) کي ياد ميں منعقدہ تقريب سے خطاب کے دوران کہا:

ايراني علم و ادب کے افق پر شيخ سعدي(عليہ الرحمہ) کا نام ماہِ تابان کي مانند چمک رہا ہے

صدرِ مملکت نے کہا کہ شيخ سعدي شيرازي ايمان اور انساني اقدار کے بالادستي اور ايراني علم و ادب کے حوالے سے ممتاز اورنماياں مقام رکھتا ہے، انہوں نے مزيد کہا کہ ہم نے شيخ سعدي(عليہ الرحمہ) کو شہرہ آفاق حيثيت کے حامل ہونے کے باوجود ٹھيک طرح سے نہيں پہچانا حالانکہ ايران کي ثقافت اور علم و ادب کي تشہير اور رشد و تکامل ميں شيخ سعدي شيرازي کا بہت اہم اوربنيادي کردار ہے۔ ايراني علم و ادب کے رشد و تکامل ميں شيخ سعدي کا بنيادي کردار ہے

خبر کا کوڈ: 36988 - 

جمعرات 19 April 2012 - 23:25

شيراز ميں شيخ سعدي(عليہ الرحمہ) کي ياد ميں ايک باشکوہ تقريب کا اہتمام ہوا، جس ميں صدرِ مملکت کے علاوہ کثير تعداد ميں حکومتي عہدے داروں، شعراء، ادباء اور دانشور حضرات نے شرکت کي، تقريب سے خطاب کرتے ہوئےصدرِ مملکت نے اس بات پر زور ديا کہ شيخ سعدي(عليہ الرحمہ)ايمان اورعشق حقيقي کے نہايت اعليٰ درجے پر فائز تھے،انہيں اپنے الٰہي افکار کو نہايت ہي باريک بيني اور فصاحت و بلاغت کے ساتھ اشعار کے پيرائے ميں ڈالنے کا مکمل عبور حاصل تھا، يہي وجہ ہے کہ آج اس کا کلام فارسي علم و ادب کا معيار بن چکا ہے۔

صدرِمملکت نے کہا کہ حکمت اور عرفان کے حوالے سے شيخ سعدي شيرازي کا شمار کم نظيربلکہ بے بديل شخصيات ميں ہوتا ہے کہ اس موضوع پر آپکي لکھي گئي شہرہ آفاق کتابيں "بوستان" اور "گلستان" ہر زمانے اور نسل کے افراد کيلئے راہ گشا اور مشعلِ راہ ہيں، انہوں نے کہا کہ شيخ سعدي(عليہ الرحمہ) نے اپنے اشعار ميں نہايت ہي ظرافت اور باريک بيني کے ساتھ بھٹکتي انسانيت کوعروج و کمال تک پہنچنے کے گُر سکھا ديے ہيں۔

ڈاکٹر احمدي نژاد نے توحيد، عدل، نبوت اور امامت کو سعدي کے اشعار کا محور قرار ديتے ہوئے کہا کہ شيخ سعدي شيرازي کومظلوموں اور ستم ديدہ افراد کي مظلوميت پر بہت رنج تھا لہذا انہوں نے اپنے اشعار ميں عادل حکام کي مدح و ستائش کرکے انکي توجہ مظلوم عوام کے مسائل اور مشکلات کي جانب مبذول کرانے کي کوشش کي ہے۔

ڈاکٹر احمدي نژاد کا کہنا تھا کہ شيخ سعدي(عيہ الرحمہ) نے اپنے اشعار ميں انسانِ کامل کو خصوصي طور پر ملحوظِ نظر رکھا ہے، اگر ديکھا جائے تو انسان کامل کے ساتھ قريبي ارتباط اور اسکي پيروي کے سايے ميں ہي انساني صلاحيتيں اجاگر ہو جاتي ہيں، اب جب ہم شيخ سعدي کے اشعار کا مطالعہ کرتے ہيں تو وہ ہميں علم و ادب کے افق پر ماہ تابان کي مانند چمکتا ديکھائي ديتا ہےجس کے روح پرور اشعار مردہ انسانوں کو خوابِ غفلت سے بيدار کرکے انساني روح کو نئي تازگي بخشتے ہيں؛ لہذا ہم وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہيں کہ اسکے اِن تمام افکار کا سرچشمہ پيغمبر اکرم (ص) اور اہل بيت (ع) کي تعليمات ہيں۔

صدرِ مملکت نے خطاب کے دوران شيخ سعدي(عليہ الرحمہ) کے مشہور نظم کے چند مصرعے پڑھے:

بني آدم آعضاي يکديگرند

کہ در افرينش از يک گوھرند

چو عضوي به درد آورد روزگار

دگر عضوها را نماند قرار

جس کا اردو ترجمہ يوں بنتا ہے: تمام انسان ايک جسم کے اعضاء کي مانند ہيں جن کي تخليق ايک ہي مادہ سے ہوئي ہے، اگر جسم کے ايک حصے کو درد ہونے لگے تو دوسرے حصے کو بھي چھين نہيں آتا۔

خبر کا کوڈ: 36988  

- غیرملکی دورے