
صدرِ مملکت کا ابوموسيٰ ميں عظيم عوامي اجتماع سے خطاب:
ہميں صبر و استقامت کے ساتھ ايران کي ترقي ميں حائل رکاؤٹيں دور کرني چاہيے
ڈاکٹر احمدي نژاد نے آج (بدھ کو)ايران کے جنوبي شہر ابوموسيٰ ميں عظيم عوامي اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ايراني قوم کو بارہا مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے ليکن انہوں نے صبر واستقامت کے ذريعہ ان تمام مشکلات پر قابو پايا ہے اور ايران کي موجودہ پيشرفت ايراني قوم کے صبر و استقامت کا نتيجہ ہے۔
انہوں نے خليجِ فارس کے نام کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ يہ بات بخوبي عياں ہے اور اس بات پر تاريخي ثبوت بھي موجود ہيں کہ اس علاقے کا بہت پہلے سے يہي نام چلا آيا ہے اور اس کي وجہ ايران کا قديمي وسيع و عريض تمدن ہے جس کي بدولت بہت دور دور علاقے ايراني تمدن اور ثقافت کا حصہ تھے، بہرحال خليجِ فارس کے نام ميں تبديلي کے حوالے سے ہميں کوئي پريشاني نہيں ہے کيونکہ يہ ايک واضح حقيقت ہے جوسورج کي طرح عياں ہے اور حقيقت کبھي بھي بناوٹ کے اصولوں سے چھپ نہيں سکتي۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ ايران ہميشہ سے علم و تہذيب کا مرکز رہا ہے اور اب بھي اسي راہ پر قائم ہے، يہ جو اسلامي جمہوريہ ايران ديگر ممالک کو مشورہ دے رہا ہے کہ اپني سرزمين پر انسانيت کے دشمنوں کو فوجي چھاؤني بنانے کي اجازت مت ديں اور انسان ہونے کے ناطے اتني گري ہوئے حرکات سے باز آئيں، يہ سب کچھ وہ ہمدردي کے طور پر کہہ رہا ہے۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے ابو موسيٰ ميں موجودہ حکومت کي جانب سے کئے گئے اقدامات کا اجمالي رپورٹ پيش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے گذشتہ دوروں ميں اس شہر کيلئے 40 منصوبے منظور کئے تھے جن ميں سے 25 منصوبوں پر کام مکمل ہو چکا ہے، 9 منصوبوں پر کام جاري ہے اور باقي 6 منصوبوں پر ابھي تک کام شروع نہيں ہوا جس کا کل صوبائي کابينہ کے اجلاس ميں جائزہ ليا جائے گا۔