
کوفي عنان نے ڈاکٹر احمدي نژاد کے ساتھ شام کے حوالے سے تفصيلي بات چيت کي
ڈاکٹر احمدي نژاد نے آج بعد از ظہر شام کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے خصوصي نمائندے کوفي عنان کے ساتھ گفتگو ميں شام کے حالات نہايت سنگين قرار ديےاورکہا کہ شام ميں نافذ کيا جانے والا کوئي بھي منصوبہ ہر طرح کے دباؤ اور بيروني طاقتوں کي مداخلت سے پاک ہونا چاہيے۔ صدرِ مملکت نے شام کے عوام سميت تمام انساني حقوق کي حمايت پر زور ديتے ہوئے کہا کہ شام کے حالات ہرگز خارجي ممالک کے دباؤ سے بہتر نہيں ہو سکتے -
انہوں نے کہا کہ سامراجي طاقتوں کي کوشش يہ ہے کہ کسي طرح سے مشرقِ وسطيٰ پر اپنے تسلط کا دائرہ بڑھائے،لہذا موجودہ صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئےاقوامِ متحدہ کي ذمہ داريوں ميں مزيداضافہ ہوا ہے، اب يہ اس ادرے کے سامنے سخت امتحان کي گھڑي ہے اور اس حوالے آپ (کوفي عنان) کي ذمہ داري نہايت اہم اورسنگين ہو چکي ہے،انہوں نے مزيد کہا کہ آمريکا اور يورپي ممالک کے دباؤ اور نيٹو کے ہتھياروں سے ہرگز اس طرح کےمسائل نہيں ہوں گے۔
کوفي عنان نے ڈاکٹر احمدي نژاد کے ساتھ ملاقات پر خوشي کا اظہار کرتے ہوئے اسلامي جمہوريہ ايران کو ايک اہم ملک قرار ديا جو علاقائي اور بين الاقوامي سطح پر اہم حيثيت رکھتا ہے، انہوں نے شام کے حوالے سےاب تک کي سرگرميوں کا تفصيلي رپورٹ پيش کيا اور کہا کہ شام کے تنازعے کا بہترين راستہ تشدد اور فوجي کاروائيوں سے گزير کرتے ہوئے امن و سکون کي فضا پيدا کرنا ہے،انہوں نے اخر ميں ڈاکٹر احمدي نژاد سے اس مسئلہ کے حل کے حوالے سے تجاويز طلب کيں۔