
ڈاکٹراحمدي نژاد کا ايران کے جنوبي شہر پارسيان ميں عوامي اجتماع سے خطاب:
حکومت عوام کے تعاون سے يارانہ (حکومت کي طرف سے عوام کي مالي امداد)کو اصولي شکل دينا چاہتي ہے
صدرِ مملکت نے آج (بدھ کو)صوبہ ہرمزگان کے شہر پارسيان ميں ايک بڑے عوامي اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور ديا کہ ہميں ملکي نظام کو عدل و انصاف پر استوار کرنےرکھنے کيلئے سخت محنت اورتلاش کرني چاہيے، جس پر عمل درآمد کے نتيجے ميں معاشرے سے تبعيض کا خاتمہ ہو جائے گا اور ملک کے ان پسماندہ علاقوں کي تعمير و ترقي پر بھي خاص توجہ دي جائے گي جو بنيادي سہوليات سے محروم ہيں۔
انہوں نے ملک ميں بڑھتي ہوئي مہنگائي کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اس سلسلے ميں نہايت مثبت اقدامات اٹھائے ہيں اميد ہے وہ جلد از جلد موجودہ صورتحال پر قابو پائے گي، انہوں نے ملک ميں عدل و انصاف کے فروغ کيلئے موجودہ بينکي نظام کا اصلاح ناگزير قرار ديا۔ ڈاکٹر احمدي نژاد نے مزيد کہا کہ ايران کے عوام يکتاپرست، حق طلب اور عدالت خواہ ہيں، يہاں کے عوام کي عدالت خواہي کا اندازہ اس بات سے لگايا جا سکتا ہے کہ ماضي ميں اس سرزمين پر حکومت کرنے والے ڈکٹيٹر بھي عوام ميں مقبوليت کي خاطر عدالت کا نعرہ بلند کرتے تھے،
ڈاکٹراحمدي نژاد نےعلم و ٹيکنالوجي کے ميدان ميں ايران کي پيشرفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ايراني قوم ہميشہ ترقي کي چوٹياں سر کرنے کي خاظر مسلسل جد و جہد کر رہي ہے۔انہوں نے اس بات پر فخر و مباہات کا اظہار کيا کہ ہم واحد ايسي قوم ہيں جو رسول اکرم (ص)اور اہل بيت (ع)کے ساتھ سچي محبت کرتے ہيں اور جنہوں نے اس راہ ميں اپني پوري زندگياں وقف کر رکھي ہيں، يہي وجہ ہے کہ آج پوري دنيا ميں ايران کا نام سورج کي مانند چمک رہا ہے۔