ڈاکٹر احمدي نژاد کا بندر عباس ميں پُر جوش عوامي اجتماع سے خطاب: چھار صدياں گذرنے کے باوجود اب بھي ہرمزگان کا نام سنتے ہي سامراج پر لرزہ طاري ہو جاتا ہے<br />
جمعه 14 December 2012 - 10:37
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español
منتخب خبریں

صدرِ مملکت نے اس بات پر زور ديتے ہوئے کہ صوبہ ہرمزگان کےلوگ نہايت ہي محنتي، باعزم اور با ہمت لوگ ہيں، اس سرزمين کے بسنے والوں کا سامراج کے خلاف مزاحمت سے چھار صديان گزرنے کے باوجود آج بھي جہاں کہيں ہرمزگان کا نام آتا ہے دشمنوں کے بدن پر لرزہ طاري ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹر احمدي نژاد کا بندر عباس ميں پُر جوش عوامي اجتماع سے خطاب:

چھار صدياں گذرنے کے باوجود اب بھي ہرمزگان کا نام سنتے ہي سامراج پر لرزہ طاري ہو جاتا ہے

صدرِ مملکت نے اس بات پر زور ديتے ہوئے کہ صوبہ ہرمزگان کےلوگ نہايت ہي محنتي، باعزم اور با ہمت لوگ ہيں، اس سرزمين کے بسنے والوں کا سامراج کے خلاف مزاحمت سے چھار صديان گزرنے کے باوجود آج بھي جہاں کہيں ہرمزگان کا نام آتا ہے دشمنوں کے بدن پر لرزہ طاري ہو جاتا ہے۔

خبر کا کوڈ: 36826 - 

منگل 10 April 2012 - 14:07

ڈاکٹر احمدي نژاد نے آج (منگل کو) تختي سٹيڈيم بندر عباس ميں پُر جوش عوامي اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس سرزمين کے لوگ نہايت ہي زحمت کش، باوقار اور بلند ہمت لوگ ہيں جنہوں نے کئي صديوں سے اپني ثقافت، ملکي اقتدار اور اپنے وطن سے محبت کي خاطر بڑے دليري کے ساتھ سامراج کا مقابلہ کيا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوئي بھي معاشرہ اس وقت تک کمال و سعادت حاصل نہيں کر سکتا جب تک اس معاشرے کي بنياد عدالت پر قائم نہ ہو، اگر اسلامي تعليمات ميں غور کيا جائے تو صاف ديکھائي ديتا ہے کہ اسلام ميں عدالت مرکزي حيثيت رکھتا ہے۔

صدرِ مملکت نے کہا کہ مغربي ممالک کي دھمکيوں کے باوجود ايراني قوم نے ترقي و پيشرفت کي جانب مثبت قدم اٹھائے ہيں اور وہ کسي بھي صورت ميں ناانصافي قبول نہيں کريں گے، انہوں نے دشمنوں کي جانب سے ايران کے خلاف اقتصادي پابنديوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تيل کے بائيکاٹ کا ہمارے اوپر کوئي خاص منفي اثر نہيں پڑے گا کيونکہ ہمارے پاس زرمبادلہ کے ذخاير اور فارن کرنسي وافر مقدار ميں موجود ہے لہذا اگر آيندہ تين سال تک ايران کے تيل کا ايک بيرل بھي نہ بکے تب بھي ملک کو چلانے ميں کوئي دقت پيش نہيں آئے گي۔

انہوں نے خطے کے حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دشمن طاقتيں پڑوسي ممالک پر اسلحہ فروخت کرکے علاقے مين بد امني پھيلا رہے ہيں، انہوں نے ہمسايہ ممالک ميں دشمنوں کي جانب سے متعدد فوجي چھاؤنيوں کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دشمن قيامِ امن کے بہانے سے ان پر اسلحہ فروخت کرکے انکي دولت لوٹنا چاہتے ہيں۔

خبر کا کوڈ: 36826  

- غیرملکی دورے