ڈاکٹر احمدي نژاد کا بستک ميں عوامي اجتماع سے خطاب: عدالت سے دفاع اور پرچمِ توحيد کي سربلندي کي خاطرايران کي تعمير و ترقي ناگزير ہے<br />
جمعه 14 December 2012 - 10:37
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español
منتخب خبریں

ڈاکٹر احمدي نژاد نے آج (منگل کو)ہرمزگان کے دورے کے موقع پر ايران کے جنوب ميں واقع بستک شہر ميں عوامي اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ملک کي تعمير و ترقي کيلئے وسيع منصوبہ بندي تيار کي ہوئي ہے اور انشاء اللہ ہماري کوشش ہوگي کہ موجودہ حکومت کے دورِ اقتدار کے خاتمے تک تمام منصوبوں پر کام مکمل ہو جائے گا۔

ڈاکٹر احمدي نژاد کا بستک ميں عوامي اجتماع سے خطاب:

عدالت سے دفاع اور پرچمِ توحيد کي سربلندي کي خاطرايران کي تعمير و ترقي ناگزير ہے

ڈاکٹر احمدي نژاد نے آج (منگل کو)ہرمزگان کے دورے کے موقع پر ايران کے جنوب ميں واقع بستک شہر ميں عوامي اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ملک کي تعمير و ترقي کيلئے وسيع منصوبہ بندي تيار کي ہوئي ہے اور انشاء اللہ ہماري کوشش ہوگي کہ موجودہ حکومت کے دورِ اقتدار کے خاتمے تک تمام منصوبوں پر کام مکمل ہو جائے گا۔

خبر کا کوڈ: 36825 - 

منگل 10 April 2012 - 17:58

انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشرے ميں ظلم، امتيازي سلوک اور قتل و غارت سميت تمام مشکلات کي وجہ قرآن مجيد اور اللہ تعاليٰ کے بتلائے ہوئے تعليمات سے دوري ہے، انہوں نے کہا کہ اگر تمام مسلمان قرآن اور اہل بيت (ع) کو اپني زندگي کيلئے اسوہ اور نمونہ قرار ديتے تو آج مسلمان اتنے انحطاط اور پستي کا شکار نہ ہوتے اور سامراجي طاقتوں کو ہرگز يہ جرآت نہ ہوتي کہ وہ عراق اور افغانستان پر قبضہ کرکے بے گناہ افراد کا خون بہائے۔

صدرِ مملکت نے افغانستان کے اندر حاليہ رونما ہونے والے دلخراش واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انسانيت کے دشمنوں نے نيٹو فوج ميں شامل ايک ذہني مينٹل شخص کے ياتھ ميں بندوق دے افغانستان بھيجا جس نے ظلم و بربريت کي انتہا کرتے ہوئے کئي بے گناہ افراد کي جان لے لي، اس کے بعد مذکورہ فوجي ادارہ يہ ظاہر کرنے لگا کہ يہ شخص ذہني ٹينشن کا شکار تھا، يوں وہ اس واقعہ کي نسبت اپني ذمہ داري سے بيزاري کا اظہار کرنے لگتے ليکن اگر سوچا جائے تو ان کي ذمہ داري مزيد بڑھ جاتي ہے کہ بھلا انہوں نے کيوں ايک ذہني ٹينشن شخص کے ہاتھ ميں بندوق دے کرافغانستان بھيجا۔

ڈاکٹر احمدي نژاد نے فلسطين ميں رونما ہونے والے مظالم پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صيہونيوں نے اب تک ہزاروں فلسطينيوں کا قتلِ عام کيا ہے اور پھر تعجب کي بات يہ ہے کہ وہ اپنے چہرے پر نقاب اڑے ہوئے انساني حقوق کے علمبردار کي صورت ميں خود کو ظاہر کرتے ہيں۔انہوں نے اخر ميں صوبہ ہرمزگان ميں حکومتي اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ ہرمزگان ميں گذشتہ تين دوروں کے دوران شہر بستک کيلئے 80 منصوبے منظور ہوئے، جن ميں سے اب تک 46 منصوبوں پر کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ 20 منصوبوں پر کام جاري ہے اور بقيہ 14 منصوبوں پر اب تک کام شروع نہيں ہوا ہے کہ انشاء اللہ عنقريب اس منصوبوں کے اجراء ميں حائل رکاؤٹوں کا تفصيلي جائزہ ليا جائے گا۔

خبر کا کوڈ: 36825  

- غیرملکی دورے