
صدرِ مملکت کے ساتھ سابق جاپاني وزيراعظم کي ملاقات:
ايران اور جاپان کو دنيا سے ايٹمي ہتھياروں کے خاتمے کيلئے مشترکہ کوششوں کي ضرورت ہے
ڈاکٹر احمدي نژاد نے اس بات پر زور ديا کہ دنيا کا بھاگ دوڑ سنبھالنے کيلئے تمام ممالک کويکساں حق حاصل ہے اور ہرگز کسي اجنبي ملک کو يہ حق حاصل نہيں کہ وہ دوسروں پر زبردستي اپني مرضي مسلط کرے اوراس سلسلے ميں اسلامي جمہوريہ ايران اور جاپان مل کر باہمي تعاون کے ذريعہ مؤثر کردار ادا کر سکتے ہيں۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے آج (اتوار کو) جاپان کے سابق وزيراعظم جناب يوكيوها توياما کے ساتھ ملاقات کے دوران اس بات کي طرف اشارہ کيا کہ اسلامي جمہوريہ ايران کا موقف يہ ہے کہ دنيا کا نظام عدل و انصاف اورامن و بھائي چارے پر قائم رہنا چاہيے اور کسي بھي ملک کو اپنا ارادہ دوسروں پر مسلط کرنے کا کوئي جواز نہيں ہے اور تمام ممالک کو باہمي رواداري سے دنيا کا نظام چلانے کيلئے کوششيں کرني چاہيے کيونکہ جيساکہ اقتصاد کے ميدان انحصار نقصان دہ ہے اسي طرح سياست کے ميدان ميں انحصار بھي ضرررساں ہے۔
صدرِ مملکت نے کہا کہ ہيروشيما پر گرائے ہوئے بم سے نہ صرف جاپانيوں کو نقصان اٹھانا پڑا تھا بلکہ اس سے دنيا بھر کے انسانوں کے جزبات مجروح ہوئے تھے، صدرِ مملکت نے ايٹمي مسئلہ ميں اسلامي جمہوريہ ايران کي جانب سے بين الاقوامي ايٹمي ايجنسي کے ساتھ رضاکارانہ طور پر تعاون کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ تين سالوں ميں ايران نے ايٹمي پروگرام ميں اين پي ٹي کے تمام قوانين کا لحاظ رکھا اور اس کا ہميں يہ صلہ ديا گيا کہ آمريکي صدر نے ايران کو شرارت کا مرکز قرار ديا حالانکہ اس وقت تک ہماري تمام علمي تحقيقات بھي روک ديے گئے تھے۔
انہوں نے مزيد کہا کہ ہماري تمام ايٹمي سرگرمياں بين الاقوامي ايٹمي ايجنسي کے زيرِ نظر انجام ہو رہي ہيں اور اس سلسلے ميں اسلامي جمہوريہ ايران نے ديگر ممالک کو شہري ضروريات پوري کرنے کيلئے 20 فيصديورنيم افزودگي اورايٹمي پلانٹس کي تکميل ميں مشارکت کي افر کي تھي ليکن مغربي ممالک نے اس کا مثبت جواب نہيں ديا، بہرحال اس سلسلےميں ايران آيندہ ميٹينگ ميں مزيد تجاويز پيش کرے گا۔
صدرِ مملکت نے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران آئي اے اي اے کے منشور اور اين پي ٹي معاہدکے تحت ہي پرامن مقاصد کے لئے ايٹمي ٹکنالوجي کے حصول کي کوشش جاري رکھے گا - انہوں نے آئي اے اي اے کے ساتھ ايران کے بھرپور تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ايران کي ايٹمي سرگرمياں پرامن مقاصد کے لئے ہيں۔
انہوں نے کہا کہ اسلامي جمہوري ايران اور جاپان مل کر دنيا سے ايٹمي ہتھيارکے خاتمے کيلئے مشترکہ کوششوں کي ضرورت ہے کہ البتہ اس مقصد تک پہنچنا نہايت ہي دشوار اور مشکل کام ہے،انہوں نے دونوں ممالک کے درميان ديرينہ گہرے تعلقات کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہمارے درميان ہميشہ سے قريبي تعلقات چلے آئے ہيں اور مشترکہ ثقافت کے حامل ہيں۔
سابق جاپاني وزير اعظم نے ڈاکٹر احمدي نژاد کے ساتھ ملاقات پر خوشي کا اظہار کرتے ہوئے گزشتہ برس جاپان ميں پيش انے والي سونامي ميں ايران کي تعاون اور ہمدردي کا شکريہ ادا کيا اور کہا کہ ہم سب کو دنيا سے ايٹمي ہتھيار کے خاتمے کيلئے کوشش کرني چاہيے، جاپان کے سابق وزيراعظم نے اخر ميں تہران اور ٹوکيو کے درميان سياسي، اقتصادي اور ثقافتي شعبوں ميں دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر زور ديا۔