
ڈاکٹراحمدي نژاد نے صوبہ خراسانِ رضوي ميں چند ترقياقتي پراجيکٹس کے افتتاح کے موقع پرکہا:
حکومت ملکي محصولات سے حمايت کے شعار کو عملي جامہ پہنانے کيلئے صنعت اور ذراعت کے شعبوں پر خصوصي توجہ دنيا چاہتي ہے
ڈاکٹر احمدي نژاد نےآج (ہفتے کو)صوبہ خراسان رضوي ميں حکومت کے تعاون سے بنائے گئے 17500 گھروں اور 575 کلوميٹر پر مشتمل نئي تعمير شدہ شہري اور ديہاتي سڑکوں کے افتتاحي تقريب کے موقع پر کہا کہ آج کے دَور ميں ايراني کي تعمير و ترقي کيلئے کوششيں کرنا انقلابي، الٰہي اور انساني فريضہ ہے کيونکہ آج جو بھي انساني اقدار کي بالادستي کيلئے کوششيں کرنا چاہتا ہے اسے ايران کي تعمير و ترقي کيلئے کام کرنا چاہيے۔
انہوں نے کہا کہ نئے شمسي سال کو وقت کے تقاضوں کے مطابق "ملکي مصنوعات اور ايراني سرمايہ کاري سے حمايت" کا نام ديا گيا ہے، اس سلسلے ميں حکومت نے ہاؤسنگ پراجيکٹس اور ديگر اہم اقدامات کيلئے منصوبہ بندي تيار کي ہوئي ہے جن ميں سے ذراعت کے شعبہ ميں استحکام لانا حکومت کي اولين ترجيح ہے۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے مزيد کہا کہ ايران کے مرکزي صوبوں ميں پاني کي کمي پوري کرنے کيلئے تاجکستان، درياي عمان اور مازندارن سے پاني کے انتقال پر غور ہو رہا ہے-
انہوں نے کہا جس قوم نے فضائي ٹيکنالوجي، ايٹمي توانائي، بيو ٹيکنالوجي اور نانو ٹيکنالوجي ميں اتني زيادہ پيشرفت کي ہے وہ ہر ميدان ميں ترقي کرنے کي صلاحيت رکھتي ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج پوري دنيا ايران کو عزت و قدر کي نظر سے ديکھتي ہے، وہ اعليٰ ثقافت اور ايراني قوم کا ظلم و بربريت کے خلاف مقاومت کي وجہ سے ايراني کي دہرتي سےپيار کرتے ہيں،ليکن ايران کي مزيدتعمير و ترقي کيلئے ملي جذبے کي ضرورت ہے اور اس کيلئے عوام اور حکومتي مسئولين کو مل کر ہر محاظ پر اپني کوشش تيز کرني چاہيے کيونکہ ہم ثابت کر چکے ہيں کہ ہم ايک ايسي قوم ہيں جس نے مختلف ميدانوں ميں باہمي اتقاق و اتحاد سےسامراج کے گھٹنے ٹيک ديے ہيں اور اسکے ناپاک عزائم خاک ميں ملائے ہيں۔