ڈاکٹر احمدي نژاد کابعض اراکينِ پارليمنٹ کے ساتھ ملاقات: ہم سب انقلاب کے فرزند ہيں لہذا ہميں باہمي اتفاق،تلاش اور کوشش سے ايران کي تعمير کيلئے قدم بڑھانا چاہيے<br />
جمعه 14 December 2012 - 10:36
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español

صدرِ مملکت نے ايران کے انقلابي ليڈر حضرت ايۃ ا۔۔۔ خامنہ اي کي جانب سے نئے شمسي سال کو"ملکي مصنوعات اور ايراني سرمايہ کاري کي حمايت"کا نام رکھنے پر زور ديتے ہوئے کہا کہ رواں سال ملکي مصنوعات ميں فروغ کيلئے باہمي تلاش اور کوشش کي ضرورت ہے، اس حوالے سےموجودہ حکومت نے صنعت اور ذراعت کے شعبوں ميں خصوصي منصوبے تيار کئے ہيں۔

ڈاکٹر احمدي نژاد کابعض اراکينِ پارليمنٹ کے ساتھ ملاقات:

ہم سب انقلاب کے فرزند ہيں لہذا ہميں باہمي اتفاق،تلاش اور کوشش سے ايران کي تعمير کيلئے قدم بڑھانا چاہيے

صدرِ مملکت نے ايران کے انقلابي ليڈر حضرت ايۃ ا۔۔۔ خامنہ اي کي جانب سے نئے شمسي سال کو"ملکي مصنوعات اور ايراني سرمايہ کاري کي حمايت"کا نام رکھنے پر زور ديتے ہوئے کہا کہ رواں سال ملکي مصنوعات ميں فروغ کيلئے باہمي تلاش اور کوشش کي ضرورت ہے، اس حوالے سےموجودہ حکومت نے صنعت اور ذراعت کے شعبوں ميں خصوصي منصوبے تيار کئے ہيں۔

خبر کا کوڈ: 36531 - 

منگل 03 April 2012 - 23:16

ڈاکٹر احمدي نژاد نے آج (منگل)شام عيدِ نوروز کے سلسلے ميں بعض اراکينِ پارليمنٹ سے خطاب کے دوران اس بات پر زور ديا کہ ملک کے حالات پہلے کي نسبت زيادہ پيچيدہ ہيں کيونکہ دشمن عناصر ايران کو ہر طرح سےنقصان پہنچانے کيلئے ميدان ميں اتر آئي ہے ۔

انہوں نے اس بات پر زور ديا کہ گذشتہ سال سال ملکي مصنوعات ميں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اور رہبر معظم کي جانب سے رواں سال کو "ملکي مصنوعات اور ايراني سرمايہ کاري کي حمايت" کا نام دينے سے صنعت اور ذراعت کو خصوصي اہميت دي جائے گي، انہوں نے کہا کہ درحقيقت ايران ميں پاني کي کمي ہے اورگذشتہ 25سالوں سے ذراعت پرکوئي خاص توجہ نہيں دي گئي اور اسي اثناء ملک کے سالانہ بجٹ کا بيشتر حصہ صنعت پر خرچ کيا گيا، اسکي وجہ يہ بيان کي گئي کہ ذراعت کے شعبہ ميں سرمايہ کاري ملک سے بے روزگاري کے خاتمے کيلئے زيادہ کارسازنہيں ہے-

انہوں نے کہا کہ پورے ملک ميں بارشوں کا پاني 400ارب مکعب ميٹرکے لگ بگ پڑتا ہے جس ميں سے 40 ارب مکعب ميٹر زخيرہ ہو تا ہے، جس کا5 ارب مکعب ميٹر شہر اور گاؤں کي ضروريات ، 2 ارب مکعب ميٹر صنعت اور باقي پاني ذراعت کيلئے استعمال ہو رہا ہے، لہذا اگرچہ ملک ميں پاني کي قلت ہے ليکن پاني کے صحيح استعمال سے ذرعي پيداوار کو کئي گناہ بڑھاياجا سکتاہے۔

صدرِ مملکت نے کہا کہ بعض لوگوں کا يہ کہنا ٹھيک نہيں ہے کہ ملک کے اندر کاشت کيلئے مناسب زمين موجود نہيں ہے کيونکہ ايران کاکل رقبہ 1845000 مربع کلو ميٹر ہے جس ميں سے 36ميلين ہکٹر کا رقبہ ذرعي زمين پر مشمل ہے جو کاشت کے قابل ہے ليکن افسوس کي بات يہ ہے کہ اب تک اس زمين کا صرف 5/13فيصدحصہ کاشت ہو رہا ہےجس کا مطلب يہ ہے کہ ابھي تک ادھي سے ذرعي زمين بنجر پڑي ہےجسے کاشت کيا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ في الحال ملک ميں ڈيڑھ لاکھ ذرعي انجنيئرز موجود ہيں جن ميں سے ايک لاکھ بيس ہزار بے روزگار ہيں لہذا ذراعت ميں فروغ سے انہيں بہترين روزگار مہيا کيا جا سکتا ہے،انہوں نے صنعتي پيداوار کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ سال صنعتي پيداوار ميں 8 فيصد کا اضافہ ہوا تھا کہ انشاء اللہ ان ميں مزيد بہتري لانے کيلئے کوششيں کي جائے گي۔

صدرِ مملکت نے اخر ميں سامراج کي جانب سے ايران کے خلاف اقتصادي پابنديوں کا ذکر کرتےہوئے کہا کہ دشمن سے توقع ہي يہي ہے، انہوں نے ملک کے تمام حکومتي عہدے داروں سے اپيل کي کہ وہ مل بيٹھ کر ملک کي اقتصادي صورتحال بہتر بنانے کيلئے مناسب منصوبہ بندي تيار کريں ۔

انہوں نے اميد ظاہر کي کہ رواںسال پوري ايراني قوم پرامن انساني معاشرےکيلئے عزت،برکت اور دشمنوں کے نرغے سے آزادي کا سال رہے گا۔

خبر کا کوڈ: 36531  

- عوامی ملاقاتیں