
شام صدر کے خصوصي ايلچي کي ڈاکٹر احمدي نژاد کے ساتھ ملاقات:
سامراجي طاقتيں انساني حقوق کا نعرہ بلند کر کے صيہونيوں کو نجات دلانا چاہتے ہيں
صدرِ مملکت نے کہا ہے کہ شام کي حکومت کو حاليہ رونما ہونے والے مشکلات ميں صرف داخلي مسلح گروہوں کا ہاتھ نہيں بلکہ يہ شام کے خلاف عالمي سازشوں کا حصہ ہے، انہوں نے کہا کہ يہ بات سب کيلئے بخوبي عياں ہے کہ کہ سامراجي طاقتيں ايران، شام سميت ظلم کے مقابلے ميں ڈٹ جانے والي تمام طاقتوں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہيں، وہ عوام کي آزادي اور انساني حقوق سے ہمدردي کا نعرہ بلند کرکےصيہونيوں کو نجات دلانا چاہتے ہيں۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے آج (منگل)شام صدر کے خصوصي ايلچي فيصل مقداد کے ساتھ ملاقات ميں اس بات پر زور ديا کہ سامراجي طاقتوں کے نعرے اور اہداف ميں تضاد پايا جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ آمريکي حکومت ايران، شام اور لبنان ميں عوام کي آزادي کا نعرہ بلند کر کے ان ممالک پر قبضہ جمانا چاہتي ہے ليکن ہميں ان تمام فتنوں کے مقابلے ميں مکمل طور پر ہوشيار رہنا چاہيے۔ سامراجي طاقتيں انساني حقوق کے نعرے کے ذريعہ صيہونيوں کو نجات دلانا چاہتے ہيں-
صدرِ مملکت نے شام کے حوالے سےعرب ليگ کي پاليسي پر تنقيد کرتے ہوئے کہا کہ عرب ممالک شام کو ڈيموکرسي کي رعايت پر زور دے رہے ہيں حالانکہ ان کے اپنے ممالک ميں آج تک کوئي انتخابات ہي منعقد نہيں ہوئے اور پورے ملک کا مکمل بھاگ دوڑ چند خاص افراد کے ہاتھوں ميں ہے، انہوں نے کہا کہ آج تک عرب ليگ کا تمام ويليو شام کي شريک ہونے کي وجہ سے ہے۔
انہوں نے عرب ليگ کي جانب سے شام سے ڈيموکرسي اور عوامي آزادي کي رعايت کرنے کے دستور کو مضحکہ خيز قرار ديا اور کہا کہ اس کا مطلب يہ ہوا کہ اگر شام پر حملہ ہو جائے تو کوئي بھي انکا مقابلہ نہ کرے، گويا ان کا مقصد يہ ہے کہ شام کي حکومت خود ہي اپنا ملک انہي کے سپرد کرے-
انہوں نے کہا کہ افسوس کي بات يہ کہ آج خطے ميں وہ لوگ حکمراني کر رہے ہيں کہ اگر ان کے پاس تيل اور پيسہ نہ ہوتا تو مغربي ممالک انہيں ذرا برابر بھي اہميت نہ ديتے۔
صدرِ مملکت نےحال ہي ميں اقوامِ متحدہ کے سيکرٹري جنرل کے نمائندے کے ساتھ ملاقات کے دوران زيرِ بحث افغانستان ميں متعين آمريکي فوجي کي جانب سے بے گناہ افغاني باشندوں کے قتل کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بھلا کس جواز پر ايک آمريکي فوجي بے گناہ سويلين پر حملہ کرکے بھاگ جاتا ہے؟! اور پھر آمريکي حکومت اس اقدام کو مذمت کرنے کي بجائے يہ توجيہ پيش کرتے ہيں کہ مذکورہ فوجي ذہني ڈينشن کا شکار تھا، وہ اپنے خام خيال کے مطابق اپني ذمہ داري سے بيزاري کا اظہار کرنے کي کوشش کر رہے ہيں حالانکہ اس سے انکي ذمہ داري مزيد کئي گناہ بڑھ جاتي ہے کہ بھلا آمريکي حکومت کس جواز پر ذہني مينٹل شخص کو افغانستان بھيج رہي ہے اور اس کے ہاتھ ميں بندوق دے کر افغاني عوام کي زندگيوں سے کھيل کھيل رہے ہيں، تعجب کي بات يہ ہے کہ ايسے دلخراش واقعات پر عالمي برادري مکمل طور پر خاموش تماشائي بني ہوئي ہے اور ٹس سے مس نہيں ہو رہي جبکہ دوسري جانب اگرغلطي سے کسي آمريکي مخالف ملک ميں عدليہ کوئي حکم پيش کرتا ہے تو پوري دنيا ميں شور و ولولہ بلند ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے مزيد کہا کہ ابتداء ميں اوباما کے متعلق پايا جانے والا يہ تاثر بالکل درست نکلا کہ اسے صيہونيوں نے سامنے لايا ہے اور آج وہ اسے اپني مرضي کے مطابق استعمال کر رہے ہيں۔
ايراني صدر نے اسرائيل کے مقابلے ميں شام کي مزاحمت کو سراہا اور کہا کہ شام کے موجودہ حالات عالمي سطح پر استعماري سازشوں کا نتيجہ ہيں ليکن اس بات پر خوشي ہے کہ شام کے حکام نے بہترين طريقے سے حالات قابو ميں رکھے ہيں-
انہوں نے اميد ظاہر کي کہ شام کے حالات رفتہ رفتہ ٹھيک ہو جائيں گے، انہوں نے تہران اور دمشق کے درميان گہرے اورقريبي تعلقات کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران اور شام کے درميان دوطرفہ اور بين الاقوامي روابط کے فروغ ميں کوئي رکاؤٹ موجود نہيں ہے اور انشاء اللہ ايران ہميشہ کي طرح شام کي حمايت جاري رکھے گا
انہوں نے اطمينان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ يقينا شام کي حکومت حاليہ مشکلات سے نمٹنے کيلئے ہر ممکن کوشش کرے گي اور اللہ تعاليٰ کے فضل و کرم سے شام کے باشعور عوام دشمنوں کے سارے فتنے خاک ميں ملائيں گے۔
شام صدر کے خصوصي ايلچي جناب فيصل مقداد نے ڈاکٹر احمدي نژاد کے ساتھ ملاقات پر خوشي کا اظہار کرتے ہوئے اسلامي جمہوريہ ايران کي جانب سے شام کي حمايت پر شکريہ ادا کيا اور شام کو درپيش مسائل اور اس کے پس منظر ميں عرب ليگ و اقوام متحدہ کے نقطہ نظر پر تفصيلي گفتگو کي- انہوں نے کہا کہ سامراج کا خيال يہ تھا کہ وہ شام کے اندر جنگ اور افرتفري پھيلا کر اپنے ناپاک عزائم ميں کامياب ہو سکيں گے ليکن بحمداللہ شام کے حالات تيزي کے ساتھ بہتر ہو رہے ہيں اور انشاء اللہ دشمنوں کو خالي ہاتھ لوٹنا پڑے گا۔