
ڈاکٹر احمدي نژاد کا جرمني کے ٹي وي چينل ZDF کو انٹريو
ايران کا ايٹمي مسئلہ مغربي ممالک اور عالمي ايٹمي ايجنسي کے دباؤ سے حل نہيں ہوگا
ڈاکٹر احمدي نژاد نے جرمني کے ٹي وي چينل ZDF کو انٹريو ميں اس بات کي طرف اشارہ کيا کہ اسلامي جمہوريہ ايران نے عالمي ايٹمي ايجنسي کے ساتھ قانون سے بڑھ کر تعاون کيا ہے ليکن اس کا ہميں يہ صلہ ديا گيا کہ ہمارے حقوق پائمال ہو رہے ہيں اور ہمارے ايٹمي سائنسدان قتل کئے جا رہے ہيں، انہوں نے کہا کہ ايران کا ايٹمي مسئلہ ہرگز دباؤ سے حل نہيں ہوگا،مغربي ممالک اورعالمي ايٹمي ايجنسي کو اخرکار ايران کا پرامن ايٹمي پروگرام تسليم کرنا پڑے گا اور مذاکرات اور گفتگو ہي اس مسئلے کا واحد حل ہےکيونکہ تاريخ اس بات کا گواہ ہے کہ ايراني قوم کي توہين کرنے والوں کوہميشہ بھاري قيمت چھکانا پڑا ہے۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے جرمني کے ٹي وي چينل ZDF کو انٹريو ميں صحافي کے اس سوال کے جواب ميں کہ" اسرائيل نے ايران کو ايٹمي پروگرام ميں عدم شفافيت کي بناء پر دھمکي دي ہے؟" ڈاکٹر احمدي نژاد نے استفسار کيا کہ کيا صيہوني حکومت کا اپنا ايٹمي پرگرام شفاف ہے؟
انہوں نے کہا کہ يہ ٹھيک نہيں ہے کہ اگر کوئي ملک اين پي ٹي کا عضو نہيں ہے اس کا جو دل چاہے کر سکتا ہے اور جن ممالک نے اين پي ٹي پر دستخط کئے ہيں ان کے حقوق پائمال ہو جائيں اور صيہوني حکومت انہيں بلاجواز دھمکياں دينے لگے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران نے اس حوالے سے اپنا موقف واضح طور پر پيش کيا ہے کہ وہ ايٹم بم کا مخالف ہےاور وہ اسے اخلاق اور انساني حقوق کا منافي سمجھتا ہے کيونکہ جن ممالک کے پاس ايٹم بم موجود ہے وہ بھي ايٹم بم سے کوئي فائدہ نہيں اٹھا سکتےاسلئے کہ دوسري جنگِ عظيم کے بعد يہ ماضي اور تاريخ کا حصہ بن چکا ہے-
انہوں نےمعنيٰ خيز انداز ميں سوال پوچھتے ہوئے کہا کہ کيا صيہوني حکومت ايٹم بم رکھنے کے باوجود حزب اللہ اور حماس کا مقابلہ کر سکي ہے؟ کيا ايٹم بم نے روس کو ٹکڑے ٹکٹرے ہونے سے بچايا ہے؟ کيا ايٹم بم نے آمريکا کو شيطاني پاليسيوں ميں کاميابياں دي ہے؟ انہوں نے کہا کہ ايٹم بم گذشتہ صدي کي تاريخ کا حصہ بن چکا ہے اور آج جو بھي ايٹم بم بنانا چاہتے ہيں وہ انساني اور سياسي اعتبار سے پسماندہ ہيں۔
صدرِ مملکت نے عالمي برادري کے سامنے يہ سوال رکھا کہ بھلا کس بنياد پر صيہوني حکومت کو يہ حق حاصل ہے کہ وہ دوسروں کو دھمکياں دے؟ کيا دنيا ميں ايسا قانون موجود ہے جس کے مطابق صيوني حکومت کو تمام بين الاقوامي قوانين سے استثناء حاصل ہو؟
ڈاکٹر احمدي نژاد نے صحافي کے اس سوال کے جواب ميں کہ "آپ کيوں يہ نظريہ رکھتے ہيں کہ اسرائيل کو صفحہ ہستي سے مٹ جانا چاہيے؟" ڈاکٹر احمدي نژاد کا کہنا تھا کہ دراصل ہم ظلم و ستم ،دہشت گردي اور بے گناہ بچوں اور عورتوں پر جارحيت کے مخالف ہيں لہذا جو بھي انساني حقوق کو پائمال کرتا ہے ہم ان کے مخالف ہيں ، يہي وجہ ہے کہ ہم فلسطين آزاد ريفرنڈم منعقد کرنا چاہتے ہيں تاکہ فلسطين کے عوام اپني مرضي سے اپنے مستقبل کا فيصلہ کرے۔
جرمني کے ٹي وي چينل ZDF کے صحافي کے اس سوال کے ردِ عمل ميں کہ" عالمي ايٹمي ايجنسي کا کہنا ہے کہ اگر ايران نے ايٹمي مسئلے ميں ہمارے ساتھ مکمل تعاون کرے اور ہميں بلا استثناء تمام مقامات کا معاينہ کرنے کي اجازت دے تب اس بات کي تصديق ہو سکے گي کہ اسلامي جمہوريہ ايران پرامن ايٹمي توانائي کا خواہاں ہے۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ کيا مغربي ممالک جيسے جرمني خود عالمي ايٹمي ايجنسي کو اس بات کي اجازت دے گا کہ وہ وزيراعظم اور اعليٰ سياسي حکام کے دفاتر کا معاينہ کرے؟ يا عالمي ايٹمي ايجنسي کو اس بات کي اجازت دے گا کہ وہ قانون سے بالاتر کوئي اقدام کرے؟
ڈاکٹر احمدي نژاد نے اس سوال کے جواب ميں" کہ آمريکي اور مغربي ممالک کا ايران کے بارے ميں تاثر يہ ہے کہ ايران کے پاس اخري فرصت ختم ہو رہا ہے؟" کہا کہ مغربي ممالک ايران کے اسلامي انقلاب سے پہلے شاہ کي حمايت کر رہے تھے يہاں تک کہ وہ ايران کو ايٹم اسلحہ دينے کو تيار تھے اور اس سلسلے ميں جرمني سميت ديگر مغربي ممالک نے ايران کےساتھ ايٹمي قراردادوں پر دستخط بھي کئے تھے، ابتداء ميں يہ طے پا گيا تھا کہ ايران کا بوشہرايٹمي پلانٹ جرمني کے تعاون سے تعمير کيا جائے ليکن اسلامي انقلاب کي کاميابي کے بعد جب ڈيکٹيٹر (شاہ) کي حکومت کا تختہ الٹ کرکے اسلامي انقلاب کي بنياد رکھي گئي تو يکطرفہ کاروائي کرکے ان تمام قراردادوں کو کالعدم قرار ديا گيا، تعجب کي بات يہ ہے ہمارے اوپر پابندياں لگ رہي ہيں اور ہمارے پڑوس ميں ايسے ممالک بھي موجود ہيں جہاں آج تک انتخابات ہي منعقد نہيں ہوئے اور انہوں نے دہشت گردي کي بنياد رکھ کر دنيا کا امن و امان خراب کيا ہے، سوال يہ کہ اگر يورپي ممالک انساني حقوق کے واقعي طور پر علمبردار ہيں تو کيوں ان ممالک کے خلاف کوئي ايکشن نہيں ليا جاتا؟! اگر يورپ ميں انساني حقوق پائمال نہيں ہو رہے تو کيوں کسي کو ہولوکاسٹ کے بارے ميں تحقيق کي اجازت نہيں ہے؟! بہرحال ہمارا موقف صاف اور شفاف ہے ، ہم مذاکرات اور گفتگو کو تمام مسائل کا حل سمجھتے ہيں نہ جنگ اور دشمني کو۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے جرمني کے ٹي وي چينل ZDF کو انٹريو ميں اس بات کي طرف اشارہ کيا کہ اسلامي جمہوريہ ايران نے عالمي ايٹمي ايجنسي کے ساتھ قانون سے بڑھ کر تعاون کيا ہے ليکن اس کا ہميں يہ صلہ ديا گيا کہ ہمارے حقوق پائمال ہو رہے ہيں اور ہمارے ايٹمي سائنسدان قتل کئے جا رہے ہيں، انہوں نے کہا کہ ايران کا ايٹمي مسئلہ ہرگز دباؤ سے حل نہيں ہوگا،مغربي ممالک اورعالمي ايٹمي ايجنسي کو اخرکار ايران کا پرامن ايٹمي پروگرام تسليم کرنا پڑے گا اور مذاکرات اور گفتگو ہي اس مسئلے کا واحد حل ہےکيونکہ تاريخ اس بات کا گواہ ہے کہ ايراني قوم کي توہين کرنے والوں کوہميشہ بھاري قيمت چھکانا پڑا ہے۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے انٹريو ميں صحافي کے اس سوال کے جواب ميں کہ" اسرائيل نے ايران کو ايٹمي پروگرام ميں عدم شفافيت کي بناء پر دھمکي دي ہے؟" ڈاکٹر احمدي نژاد نے استفسار کيا کہ کيا صيہوني حکومت کا اپنا ايٹمي پرگرام شفاف ہے؟
انہوں نے کہا کہ يہ ٹھيک نہيں ہے کہ اگر کوئي ملک اين پي ٹي کا عضو نہيں ہے اس کا جو دل چاہے کر سکتا ہے اور جن ممالک نے اين پي ٹي پر دستخط کئے ہيں ان کے حقوق پائمال ہو جائيں اور صيہوني حکومت انہيں بلاجواز دھمکياں دينے لگے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران نے اس حوالے سے اپنا موقف واضح طور پر پيش کيا ہے کہ وہ ايٹم بم کا مخالف ہےاور وہ اسے اخلاق اور انساني حقوق کا منافي سمجھتا ہے کيونکہ جن ممالک کے پاس ايٹم بم موجود ہے وہ بھي ايٹم بم سے کوئي فائدہ نہيں اٹھا سکتےاسلئے کہ دوسري جنگِ عظيم کے بعد يہ ماضي اور تاريخ کا حصہ بن چکا ہے-
انہوں نےمعنيٰ خيز انداز ميں سوال پوچھتے ہوئے کہا کہ کيا صيہوني حکومت ايٹم بم رکھنے کے باوجود حزب اللہ اور حماس کا مقابلہ کر سکي ہے؟ کيا ايٹم بم نے روس کو ٹکڑے ٹکٹرے ہونے سے بچايا ہے؟ کيا ايٹم بم نے آمريکا کو شيطاني پاليسيوں ميں کاميابياں دي ہے؟ انہوں نے کہا کہ ايٹم بم گذشتہ صدي کي تاريخ کا حصہ بن چکا ہے اور آج جو بھي ايٹم بم بنانا چاہتے ہيں وہ انساني اور سياسي اعتبار سے پسماندہ ہيں-