
ڈاکٹر احمدي نژاد نے تاجيکستان ميں تيسرے عالمي جشنِ نوروز کے موقع پرکہا:
جشنِ نوروز منانے والے ممالک پوري دنيا ميں محبت، اخوت اور امن و امان کے پرچمدار ہيں
صدرِ مملکت نے کہا کہ جشنِ نوروز منانے والےشريف اور نجيب لوگ ہيں جنہوں نے پوري دنيا ميں محبت، اخوت اور امن و امان کا پرچم بلند کيا ہے ۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے آج (اتوار) صبح تاجيکستان کے دارالحکومت دوشنبہ ميں تيسرے عالمي جشنِ نوروز ميں شريک سربراہانِ مملکت اورديگر سياسي شخصيات کے اجلاس ميں اس بات پر زور ديا کہ جشنِ ِ نوروز کے پرچم تلے تمام ممالک کے درميان ثقافتي تعلقات کو فروغ ملنا چاہيے تاکہ عيدِ نوروز بہتر انداز ميں دنيا والوں کو پيش کيا جاسکے اور انشاء اللہ وہ دن دور نہيں جب ساري دنيا ميں جشنِ نوروز کا عاليشاں طور پر اہتمام کيا جائےگا کيونکہ عيدِنوروز ہميں عدل و انصاف، عشق و محبت اور امن و بھائي چارے کا درس ديتا ہے اور يہ دنيا کے تمام مظوم اور ستم ديدہ افراد کو يہ نويد ديتا ہے کہ وہ دن قريب آ رہا ہے جب انسانيت کي بہار آئے گي، دنيا سے ظلم و ستم کا خاتمہ ہو جائے گا ليکن ايسا ماحول پيدا کرنے کيلئے ہميں ان خونخوار درندوں کے مقابلے ميں سيسہ پلائي ديوار کي مانند کھڑا ہونا پڑے گا جو بے گناہ افراد کا خون چوس رہے ہيں اور جنہوں نے مظلوموں سے سکھ کا سانس چھين ليا ہے۔
اس دن اللہ تعاليٰ کےنيک اور صالح افراد امام مہدي (عج)کے پرچم تلے جمع ہو کر پوري دنيا کا بھاگ دوڑ سنبھاليں گے، ظلم و بربريت کي جڑيں خشک ہو جائيں گي اور سب ہي سب ايک خدا کي پرستش کريں گے۔
اس سے پہلے تقرير کے ابتداء ميں ڈاکٹر احمدي نژاد نے اس بات پر خوشي کا اظہار کيا کہ جشنِ نوروز کے طفيل تاجيکستان کے سرزمين پر مختلف تہذيب اور ثقافت رکھنے والے لوگوں کواپس ميں اکھٹا ہو نے کا موقع ملا ، انہوں نے عيدِ نوروز کي مناسبت سے تمام افراد کو مبارکباد پيش کيا۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے خطاب کے اخر ميں حُسنِ ختام کے طور پر فارسي کے مشہور شاعر رودکي کے چند شعر پڑھے۔
با آن که دلم از غم هجرت خون است
شادي به غم توام ز غم افزون است
انديشه کنم هر شب و گويم: يا رب
هجرانش چنين است، وصالش چون است
اس تقريب ميں تاجيکستان، افغانستان اور پاکستان کے سربراہانِ مملکت نے اپنے خطاب ميں عيدِ نوروز کي مناسبت سے مبارکباد پيش کرتے ہوئے اپنے ممالک ميں عيد ِنوروز کے آداب و رسوم کي طرف اشارہ کيا۔