
ڈاکٹر احمدي نژادنے افغانستان کي معيشت کي حمايت کے سلسلے ميں منعقدہ پانچويں اجلاس کے موقع پرکہا:
افغانستان سميت پوري دنيا کي بنيادي مشکل نيٹو کي تسلط پسندي ہے
ايراني صدر جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ پوري دنيا اور خاص طور پر افغانستان کي بنيادي مشکل ينٹو افواج کي تسلط پسندي ہے۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے آج (پير) تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبہ ميں اٖفغانستان کي معيشت کے سلسلے ميں منعقدہ اجلاس ميں اس بات پر زور ديا کہ پوري دنيا اور خاص طورسے افغانستان کي بنيادي مشکل نيٹوکي تسلط پسندي ہے اور جب تک يہ سلسلہ جاري رہے گا بين الاقوامي اور اور علاقائي مشکلات ميں مزيداضافہ ہوتا جائے گا
انہوں نے افغانستان کي معيشت کے سلسلے ميں منعقدہ پانچويں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ يہ سب کي ذمہ داري بنتي ہے کہ وہ افغانستان کي مدد کريں ، انہوں نے کہا کہ درحقيقيت اس سوال کا جواب تلاش کرنے کي ضرورت ہے کہ افغان قوم کے مسائل اور رنج و الم کے اسباب کيا ہيں؟ اور اخر کيوں افغاني قوم اپنے گھر ہي ميں قتلِ عام اور بے گھر ہو رہي ہے؟
انہوں نے کہا کہ افغانستان کي صورتحال انتظامِ عالم کا نتيجہ ہے اور اس سوال کے جواب سے کہ افغانستان کے موجودہ بحران کے اسباب کيا ہيں؟ نہ صرف افغانستان بلکہ ديگر ممالک کے مشکلات بھي حل ہو جائيں گے۔
صدرِ مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ نيٹو کے رکن ممالک منجملہ آمريکا کي خواہش يہ ہے کہ دنيا پر تسلط قائم کيا جائے اور آج کي دنيا کے تمام تر مسائل کا بنيادي سبب بھي يہي ہے، انہوں نے کہا کہ نيٹو کے ممالک آج کھلم کھلا مشرقي ممالک پر حملے کرنے اور دہشت گردي سے مقابلے کے بہانے چين، روس کے مقابل صف آرائي کر رہے ہيں-
ڈاکٹر احمدي نژاد نے 11 ستمبر کے بہانے افغانستان پر آمريکا کے حملوں کي ياد دہاني کراتے ہوئے کہا کہ امريکا نے دس برسوں تک افغانستان پر قبضہ جمائے رکھنے کے باوجود اور اس شخص کو جس کے بارے ميں وہ دعويٰ کرتا ہے کہ اس نے گيارہ ستمبر کے حملے کئے تھے اور اسے گرفتار کرنے اور قتل کرنے کے بعد؛ نيز اس کے جنازے کو سمندر کے سپرد کرنے کے بعد بھي افغانستان اور پاکستان سميت خطے ميں اپني مداخلت کم نہيں کي بلکہ آمريکا کي بلاجواز مداخلتوں اور بدامني ميں اضافہ ہي ہوتا گيا۔
افغانستان کي معيشت کي حمايت کے زيرِ عنوان اجلاس آج تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبہ ميں شروع ہوا ہے، اس اجلاس ميں افغانستان، پاکستان، تاجکستان اور اسلامي جمہوريہ ايران کے سربراہانِ مملکت اور چاليس ملکوں کے وزراء خارجہ نيز تينتيس عالمي اداروں کے نمائندے شرکت کر رہے ہيں۔