ايران اور تاجکستان کے وزراء کا مشترکہ اجلاس: جشنِ نوروز کا اہتمام کرنا اِن ممالک کي تاريخي عظمت اور اقتدار کي علامت ہے<br />
جمعه 14 December 2012 - 10:34
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español
منتخب خبریں

ايران اور تاجيکستان کے وزراء کے مشترکہ اجلاس ميں اس بات پر زور ديا گيا کہ جشنِ نوروز کا عالمي معنوي اور مذہبي تہواروں ميں شامل ہونے اور تين مرتبہ عالمي جشنِ نوروز کا اہتمام کرنے سے ان ممالک کے عظيم تاريخي تمدن کا اندازہ ہوتا ہے۔

ايران اور تاجکستان کے وزراء کا مشترکہ اجلاس:

جشنِ نوروز کا اہتمام کرنا اِن ممالک کي تاريخي عظمت اور اقتدار کي علامت ہے

ايران اور تاجيکستان کے وزراء کے مشترکہ اجلاس ميں اس بات پر زور ديا گيا کہ جشنِ نوروز کا عالمي معنوي اور مذہبي تہواروں ميں شامل ہونے اور تين مرتبہ عالمي جشنِ نوروز کا اہتمام کرنے سے ان ممالک کے عظيم تاريخي تمدن کا اندازہ ہوتا ہے۔

خبر کا کوڈ: 36329 - 

منگل 27 March 2012 - 10:42

ايراني صدر ڈاکٹر احمدي نژاد اور تاجکستان کے صدر امام علي رحمان نے دونوں ممالک کے وزراء کے مشترکہ اجلاس ايران، تاجکستان اور افغانستان کے تعاون سے پوري دنيا ميں جشنِ نوروز منعقد کرنے پر زور ديا، انہوں نے کہا کہ اس قسم کے باوقار اور باشکوہ جشن کا اہتمام کرنا يقينا نہايت ہي سخت اور طاقت فرسا کام ہے ليکن عيدِ نوروز ميں خود ايسي کشش اور جاذبہ موجود ہے جس کي بدولت يہ تمام کام آسان اور سہل ہو جاتے ہيں اور انشاء اللہ وہ دن دور نہيں جب پوري دنيا ميں موسمِ بہار کي آمد پر اس قسم کے جشنوں کا اہتمام ہوجائے۔

ڈاکٹر احمدي نژاد نے مذاکرات کے دوران دونوں ممالک کے اقتصادي، ثقافتي اور سياسي تعلقات پر اطمينان کا اظہار کرتے ہوئے انہيں مزيد استحکام بخشنے پر زور ديا اور کہا کہ ايران، تاجکستان اور افغانستان کے درميان بہت جلد بجلي، گيس اور ريل پلٹري کے منصوبوں پر کام مکمل ہو جائے گا

انہوں نے افغانستان کي معيشت کے سلسلے ميں منعقدہ اجلاس کو نہايت اہم قرار ديا اور کہا کہ صرف افغانستان کے پڑوسي ممالک ہي افغانستان کي معيشت ميں درپيش مشکلات برطرف کر سکتے ہيں اورسامراج افغانستان کو لوٹنے اور غارت کرنے کي غرض سے خطے ميں موجود ہے

انہوں نے ہمسايہ ممالک کے درميان دوستي اور تعاون کي فضا مزيد مستحکم بنانے کي اہميت پر زور ديتے ہوئے کہا کہ جوں جوں ہمسايہ ممالک کے درميان دوستي کي زنجيريں مستحکم ہوتي جائيں گي بيروني طاقتوں کا خطے کے مسائل ميں دخل اندازي کا سدِ باب ہو جائے گا

ڈاکٹر احمدي نژاد نے مزيد کہا کہ ايران اور تاجکستان کے درميان تعلقات کے فروغ ميں کوئي رکاؤٹ موجود نہيں ہے۔

تاجکستان کے صدر امام علي رحمان نے دونوں ممالک کے درميان اقتصادي سرگرميوں کو رضايت بخش قرار ديا اور کہا کہ ہمارا ملک ايران کے ساتھ مزيد تعلقات استوار کرنے کا خواہاں ہےاور بجلي، گيس اور ديگر ضروريات پوري کرنے کيلئے ايران کے ساتھ معاہدے منعقد کرنے کو ترجيح ديتا ہے

ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ ايٹمي توانائي حاصل کرنا ايران کا بنيادي حق ہے کيونکہ ايران ايک متمدن اور ترقي يافتہ ملک ہے لہذا وہ ايٹمي توانائي کو ملکي ترقي اور پيشرفت کيلئے چاہتاہے، انشاء اللہ عنقريب ايران پر عالمي ميڈيا کا دباؤ ختم ہو جائے گا اور ايران ہميشہ کي طرح ترقي کي جانب بڑھتا جائے گا۔

خبر کا کوڈ: 36329  

- غیرملکی دورے