ڈاکٹر احمدي نژاد کا گلوبل مارچ ٹو بيت المقدس کے شرکاء سے خطاب: کاروان برائے آزادي بيت المقدس کي حاليہ کوشش ايک تاريخي اقدام ہے
جمعه 14 December 2012 - 10:33
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español

صدرِ مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے بيت القدس کي آزادي کے کاروان کو زبردست الفاظ ميں خراجِ تحسين پيش کيا اور کہا کہ چمکادڑ کيلئے روشني کا ايک کرن بھي ناگوار ہے، انہوں نے کاروان برائے آزادي بيت المقدس کوروشني اورنور کي کرنوں کے ساتھ تشبيہ ديا جو سورج کي مانندبھٹکتي انسانيت کو صحيح راستے کي نشاندہي کررہے ہيں اور انکي حاليہ کوشش ايک تاريخي اقدام ہے ۔

ڈاکٹر احمدي نژاد کا گلوبل مارچ ٹو بيت المقدس کے شرکاء سے خطاب:

کاروان برائے آزادي بيت المقدس کي حاليہ کوشش ايک تاريخي اقدام ہے

صدرِ مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے بيت القدس کي آزادي کے کاروان کو زبردست الفاظ ميں خراجِ تحسين پيش کيا اور کہا کہ چمکادڑ کيلئے روشني کا ايک کرن بھي ناگوار ہے، انہوں نے کاروان برائے آزادي بيت المقدس کوروشني اورنور کي کرنوں کے ساتھ تشبيہ ديا جو سورج کي مانندبھٹکتي انسانيت کو صحيح راستے کي نشاندہي کررہے ہيں اور انکي حاليہ کوشش ايک تاريخي اقدام ہے ۔

خبر کا کوڈ: 36103 - 

هفته 24 March 2012 - 12:06

ڈاکٹر احمدي نژاد نے آج (اتوار)گلوبل مارچ ٹو بيت المقدس کے شرکاء جو جمعرات کوفلسطين اور بيت القدس کي جانب بڑھتے ہوئے ايران پہنچے ہيں؛ سے خطاب کرتے ہوئے فلسطين کي آزادي کيلئے کوششوں کو پورے عالمي سماج ميں عدل و انصاف اور آزادي کيلئے کوششوں کے مترادف قرار ديے اورکہا کہ مسئلہ فلسطين تمام آزاد اور خود مختار ممالک کا مشترکہ مسئلہ ہے کيونکہ صيہوني حکومت نے ايک خاص سرزمين پر قبضہ نہيں کيا ہے بلکہ پوري انسانيت کي توہين کرکے تمام آزاد منش انسانوں کے دلوں کو جريحہ دار بنايا ہے ۔

صدرِ مملکت نے اس بات کي طرف اشارہ کيا کہ مغربي ممالک کي جانب سے ڈيموکرسي اور انساني حقوق کے علمبرداري کے نعرے فلسطين جاکر پسِ پشت ڈال ديے جاتے ہيں، يہاں تک کہ کسي کو صيہوني حکومت کي تشکيل سے متعلق تحقيق اور جستجو کرنے کي اجازت تک نہيں ہيں، انہوں نے کہا کہ سامراجي طاقتيں مشرقِ وسطيٰ ميں صيہوني حکومت کي جڑيں مضبوط کرکے اپني استعماري اہداف کو فروغ دينے کي کوشش کر رہي ہيں اور ان شيطاني سازشوں کا مقابلہ کرنے کيلئے عالمي سطح پر اتحاد اور يکجہتي کي ضرورت ہے ، بہرحال صيہوني حکومت کے زوال کے آثار واضح ديکھائي دے رہے ہيں اور سامراج کي تمام تر کوششيں اسے تباہي اور بربادي سے نہيں بچا سکتيں، کيونکہ يہ اللہ تعاليٰ کا وعدہ ہے کہ اخر کار مظلوموں کو ہي کاميابي ملے گي۔

بيت القدس کي آزادي کا يہ کاروان پانچ براعظموں کے افراد پر مشتمل ہےجومختلف ہمسايہ ممالک ميں آوارہ فلسطينوں کے ہمراہ بيت المقدس کي جانب بڑھتا جائے گا، يہ کاروان انڈونيشيا، ہندوستان، پاکستان اور ايران سے گزرتا ہوا ترکي اور لبنان کے راستے فلسطين ميں داخل ہو جائے گا، اس موقع پر مختلف ممالک ميں موجود اسرائيلي ايمبسيوں کے سامنے اسرائيل بربريت کے خلاف مظاہرے کئے جائيں گے۔



خبر کا کوڈ: 36103  

- غیرملکی ملاقاتیں اوردورے