
ڈاکٹر احمدي نژاد کے ساتھ عراقي صدر کے مشير کي ملاقات:
ايران عراق کے درميان دوطرفہ تعلقات ميں فروغ کے پيشِ نظر تمام ممکنہ مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے پر زور
ڈاکٹر احمدي نژاد نے علاقائي اور بين الاقوامي سطح پر ايران اور عراق کي اہم موقعيت کي طرف اشارہ کرتے ہوئےدوطرفہ تعلقات ميں استحکام پر زور ديا۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے آج (ہفتہ)قبل از ظہر عراقي صدر کے مشيرجناب خضير الخزاعي کے ساتھ ملاقات ميں اپنے خيالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران اور عراق روشن تاريخ اور اعليٰ ثقافت کےحامل ہيں اور دونوں ممالک علاقائي اور بين الاقوامي سطح پر ممتاز حيثيت رکھتے ہيں لہذا ہميں مزيد ترقي اور پيشرفت کيلئے دوطرفہ تعلقات کو مزيد فروغ دينا چاہيے۔
صدرِ مملکت نے کہا کہ دونوں ممالک ايک جيسے دشمنوں کے ساتھ برسرِ پيکار ہيں جو کسي صورت ميں بھي ہماري ترقي برداشت نہيں کر سکتے اورہمارے خلاف مختلف ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہيں،اِن حالات ميں ہميں مل کر باہمي تعاون اور يکجہتي سے ترقي کي جانب قدم بڑھانا ہوگا-
انہوں نے کہا کہ عراق کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے فروغ ميں ہمارے درميان کوئي رکاؤٹ موجود نہيں ہے، لہذا ہم ثقافت، سائنس وٹيکنالوجي، توانائي اور تجارت سميت مختلف شعبوں ميں بہتر تعاون پيش کر سکتے ہيں،انہوں نے مزيد کہا کہ عراق کے مظلوم عوام کئي سالوں سے سامراج کے ظلم و ستم کا شکار ہيں جبکہ خطے کي بعض طاقتيں بھي ان کا بھرپور ساتھ رہي ہيں ليکن انکي خواہش کے برعکس ہم عراق کي تعميرِنو کيلئے ہر طرح کے تعاون کيلئے تيار ہيں۔
عراقي صدر کے مشير جناب خضير الخزاعي نے ڈاکٹر احمدي نژاد کے ساتھ ملاقات پر خوشي کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک کا خطے اور بين الاقوامي مسائل ميں مؤثر کردار کي طرف اشارہ کيا اور کہا کہ ہميں مشترکہ منافع کي خاطرٹھوس اقدامات اٹھانے چاہيے-
انہوں نے مزيد کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران نے ہميشہ نہايت ہي کھٹن حالات ميں ہمارا بھر پور ساتھ ديا ہے اور آج بھي ہم مختلف شعبوں ميں دوستانہ تعلقات کو مزيد فروغ دينے ميں ايک دوسرے کے تعاون کے محتاج ہيں اور ہمارا ملک اسلامي جمہوريہ ايران کےساتھ تعلقات استوار کرنے ميں کوئي موقع ضائع کرنا نہيں چاہتا کيونکہ ہميں يقين ہے کہ ہمارے درميان مشترکہ روابط ميں استحکام سامراج کے منہ پر تھپڑ کے مترادف ہے۔