
ڈاکٹر احمدي نژاد کےساتھ ہندستان کي نئي ترقي و توانائي کے وزير کي ملاقات ايران اور ہندوستان کے درميان تعلقات ميں فروغ کے پيش نظر باہمي تعاون کے مواقع بڑھانے پر زور
صدرِ مملکت نے کہا کہ ايران اور ہندوستان کے دوست دشمن ايک ہونے کے ناطے دونوں ممالک کے درميان علاقائي اور بين الاقوامي سطح پر تعلقات کو مزيدفروغ دينے کي ضرورت ہے۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے آج (اتوار) بعداز ظہر ہندوستان کي نئي ترقي و توانائي کے وزير جناب فاروق عبداللہ کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران اور ہندوستان کے درميان گہرے اور پرانے تعلقات پائے جاتے ہيں، انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے سربراہ عالمي معاملات پر ايک جيسي نظر رکھتے ہيں اور دونوں ممالک کے دوست دشمن بھي ايک ہيں لہذا اس بات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہميں مل کر رشد و ترقي کي جانب قدم بڑھانا ہوگا۔
صدرِ مملکت نے کہا کہ ايران اور ہندوستان کے درميان وسيع پيمانے پر روابط موجود ہيں جنہيں مزيد تقويت کرنے کي ضرورت ہے لہذا اس سلسلے ميں دونوں ممالک کے درميان تجارتي، علمي اور ثقافتي تعلقات کے فروغ ميں کوئي رکاؤٹ موجود نہيں ہے،انہوں نے کہا کہ سامراج کا مسلط کيا ہوا نظام اخري سانسيں لے رہا ہے-
انہوں نے بہت پہلےسے ممالک کو لوٹنے اور انہيں پسماندہ رکھنےکي پاليسي برقرار رکھي ہوئي ہے لہذا يہ لوگ ايران اور ہندوستان کے درميان بہتر تعلقات ہرگز برداشت نہيں کر سکتے ۔
صدرِ مملکت نے مزيد کہا کہ دشمن عناصر ايران کي تعمير و ترقي کے مخالف ہيں لہذا وہ ايران پر دباؤ بڑھانے کي غرض سے ايران کے خلاف طرح طرح کي پابندياں عائد کر رہے ہيں جيسا کہ وہ ہندوستان ميں علاقائي، قومي اور علاقائي اختلافات کو ہَوا دے کر ہندوستان کي ترقي ميں رکاؤٹيں پيدا کر رہے ہيں ليکن انہيں خبردار رہنا چاہيے کہ ممالک کے داخلي مسائل ميں بيجا مداخلت سے يہ ہرگز اپنے ناپاک عزائم ميں کامياب نہيں ہو سکتے
ڈاکٹر احمدي نژاد نے اخر ميں اس بات پر زور ديا کہ ہميں دشمنوں کي سازشوں سے ہوشيار رہنا چاہيے اور ہمارا پختہ يقين ہے کہ جو بھي حق اور عدل و انصاف پر ڈٹا رہےگا کاميابي اس کا مقدر بنے گي، يہي تمام دنيا والوں کوہمارا مشترکہ پيغام ہے۔
ہندوستان کي نئي ترقي و توانائي کے وزير جناب فاروق عبداللہ نے صدرِمملکت کے ساتھ ملاقات پر خوشي کا اظہار کيا اور کہا کہ دونوں ممالک خطے ميں امن و آسائش قائم کرنے ميں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہيں اور ان کا ملک ايران کےساتھ اقتصادي، تجارتي اور ثقافتي روابط سميت تمام شعبوں ميں تعلقات کو فروغ دنيا چاہتا ہے
انہوں نے سامراجي سازشوں کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر دشمن کا خيال يہ ہو کہ وہ ايراني سائنسدانوں کو قتل کرکے ايران کے اعليٰ اہداف تک رسائي ميں خلل پيدا کر يں گے تو يہ ان کي غلط فہمي ہوگي۔
فاروق عبداللہ نے کہا کہ ان کا ملک تمام ممالک کي آزادي اور خود مختاري کا احترام کرتا ہے اور اجنبي ممالک کا دوسروں کے داخلي مسائل ميں دخل اندازي کو مذمت کرتا ہے جبکہ شام کے حوالے سے بھي ان کا ايران جيسا موقف ہے۔