
صدر احمدي نژاد کي روسي صدر ميدوديف کے ساتھ ٹيلي فون پر بات چيت:
شام کے مسائل کا حل بيروني مداخلت سے نہيں بلکہ مذاکرات سے ممکن ہے۔
اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد اور روس کے صدر ميدوديف نے ٹيلي فون پر بات چيت کرتے ہوئے، مغربي ممالک کي طرف سے شام ميں پيدا کردہ صورتحال پر تبادلہ خيال کيا۔ دونوں رہنماؤں نے کہا کہ شام کے مسائل کا حل بيروني مداخلت سے نہيں بلکہ سياسي جماعتوں کے درميان مذاکرات سے ممکن ہے۔
صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے بده کو اپني بات چيت ميں شام ميں ہونے والي شدت پسندي کے جلد از جلد خاتمے اور قومي اتفاق رائے کے ذريعے سياسي، معاشرتي اور اقتصادي اصلاحات پر زور ديتے ہوئے کہا کہ شام کے مسائل حل کرنے کےلئے دانشمندانہ موقف اختيار کرنے کي ضرورت ہے۔
ايک دوسرے کے ساتھ بات چيت ميں صدر ڈاکٹر احمدي نژاد اور روس کے صدر ميدوديف نے شام ميں بيروني مداخلت کي مخالفت کرتے ہوئے تاکيد کي ہيں کہ شام کا مسئلہ ايک داخلي مسئلہ ہے اور شام کي حکومت اور عوام کو مل بيٹھ کر اس مسئلے کو حل کرنا چاہيے۔
روس کے صدر ميدوديف نے اپني ٹيلي فوني بات چيت ميں کہا کہ علاقائي ممالک کو چاہيے کہ وہ شام ميں حکومتي اصلاحات کي حمايت کريں اور اختلافات کو مزيد ہوا دينے سے اجتناب کريں- روس شام کے اندروني معاملات ميں بيروني مداخلت کے خلاف ہے- انہون نے کہا کہ وہ ممالک جو شام ميں مداخت کررہے ہيں وه اصل ميں شام کو تقسيم کرنا چاہتے ہيں- اس موقع پر شام کے حوالے سے مختلف فريقوں کے درميان بات چيت کي ضرورت ہے۔
ٹيليفون پر دونوں ممالک کے صدور نے تاکيد کي کہ مشترکہ بات چيت کے ذريعے اور باہمي کوششوں سے علاقائي مسائل اور شام کے مسائل کا حل نکلا جا سکتا ہے-