شعر فجر نامي فيسٹيول كي اختتامي تقريب ميں صدر مملکت نے کہا: ثقافت انسانيت کا سب سے بڑا ورثہ ہے، فن بهي ثقافت کا مظہرہے اور شاعري فنون ميں سب سے زيادہ متاثر کرنے والا فن ہے
بد 13 February 2013 - 10:22
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español

اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے شعر فجر نامي فيسٹيول كي اختتامي تقريب ميں خطاب کرتے ہوئے کہا: ثقافت انسانيت کا سب سے بڑا ورثہ ہے، فن بهي ثقافت کا مظہرہے اور شاعري فنون ميں سب سے زيادہ متاثر کرنے والا فن ہے - شعر کہنا سمندر کو کوزے ميں بند کرنے کا فن ہے-

شعر فجر نامي فيسٹيول كي اختتامي تقريب ميں صدر مملکت نے کہا:

ثقافت انسانيت کا سب سے بڑا ورثہ ہے، فن بهي ثقافت کا مظہرہے اور شاعري فنون ميں سب سے زيادہ متاثر کرنے والا فن ہے

اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے شعر فجر نامي فيسٹيول كي اختتامي تقريب ميں خطاب کرتے ہوئے کہا: ثقافت انسانيت کا سب سے بڑا ورثہ ہے، فن بهي ثقافت کا مظہرہے اور شاعري فنون ميں سب سے زيادہ متاثر کرنے والا فن ہے - شعر کہنا سمندر کو کوزے ميں بند کرنے کا فن ہے-

خبر کا کوڈ: 35243 - 

پیر 20 February 2012 - 19:00

صدر مملکت اس فيسٹيول ميں ايران کے اہم شعرا کے نام ليتے ہوئے کہا: مشہور شاعر رودکي نہ صرف فارسي شاعري کا باوا آدم ہے بلکہ ان کي شاعري ميں اخلاقيات، حکمت اور مختلف علوم بهي موجود ہے جن کي وجہ سے ہم بہت لطف اندوز ہوتے ہيں- فنونِ لطيفہ ذي حس اور باشعور اقوم کے تخليقي ذہن کي عکاسي کرتے ہيں اور سماج ميں ان فنون سے وابستہ افراد کي موجودگي ذہني زرخيزي اور زندگي کي علامت ہوتي ہے - يہ فنون دراصل مختلف حقائق ، جذبات ، احساسات اور تجربات ومشاہدات کا اظہار ہوتے ہيں- شاعري وہ ہے جو سامع يا قاري کے دل کے تاروں کو چھيڑ دے-

صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے دنيائے شاعري ميں لازوال مقام حاصل کرنے والے شاعر فردوسي کے بارے ميں کہا کہ اگر فردوسي جيسا شاعر نہ ہوتا آج تو فارسي زبان بهي نہ ہوتي اور ان کي ايمانداري کي وجہ سے ہے کہ ہم اب ايک بہت قيمتي ثقافت سے روشناس ہيں-

صدر نے مزيد کہا کہ ہم سب فردوسي کے مرہون منت ہيں اور بلکہ پوري بشريت اور سب لوگ ان جيسے شاعروں سے مستفيد ہوگئے ہيں- آج ہر ملک ميں يہ محسوس ہوتا ہے کے رومي وہاں کا اپنا شاعر ہے اس ليے کہ رومي کا کلام ايک آفاقي کلام ہے اور آفاقي کلام ايک ملک مي کبهي نہيں رہتا بلکه پوري دنيا ميں پهيلتا ہے-

اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے کہا کہ صدياں گزرنے کے باوجود آج بھي ايران ميں حافظ مقبول ترين شاعر ہيں اس کي وجہ يہ ہے کہ حافظ اللہ تعاليٰ کے پاک کلام قرآن کے حفظ کرنے والوں ميں سے تهے اور اپنے کلام ميں قرآني مفاہيم کو فارسي زبان ميں لاتے تهے-

صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے آخر ميں درج ذيل فارسي اشعار کو پڑھ کر سنايا:

ما از تبار رستم و فرهاد و آرشيم / و اندر شرار فتنه آخر سياوشيم

در انتظار رويت آن مهر آخرين / در مجمر سپيده سپندي برآتشيم

***

ياران به هوش غصه دوران به سر رسيد / هنگام مي‌ پرستي عشاق در رسيد

از ژاژ خودپرستي نابخردان مترس / مستي ز جام ساقي آخرزمان رسيد

خبر کا کوڈ: 35243  

- عوامی ملاقاتیں