ايران، پاکستان اور افغانستان کے صدور نے مشترکہ طور پر اس بات پر زور ديتے ہوئے کہا: تہران، اسلام آباد اور کابل کے درميان بہتر تعلقات سے خطے ميں امن و امان کي صورتحال بحال ہو سکتي ہے
جمعه 14 December 2012 - 10:27
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español
منتخب خبریں

صدرِ مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے سہ فريقي اجلاس ميں اپنے خيالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ دو اجلاسوں اور حاليہ اجلاس ميں اٹھائے گئے تجاويز کو عملي جامہ پہنانے کي ضرورت ہے، انہوں نے عالمي حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دنيا نہايت کھٹن حالات سے گزر رہي ہے، دنيا پر حاکم اقتصادي، سياسي پاليسياں دم تھوڑ چکي ہيں، سامراجي طاقتيں ممالک کے درميان اختلافات اور فرقہ واريت کو ہَوا ديکر ان کي ترقي اور پيشرفت ميں رکاوٹيں پيدا کر رہے ہيں، ان حالات ميں دنيا ايک مسيحا کي تلاش ميں ہے۔

ايران، پاکستان اور افغانستان کے صدور نے مشترکہ طور پر اس بات پر زور ديتے ہوئے کہا:

تہران، اسلام آباد اور کابل کے درميان بہتر تعلقات سے خطے ميں امن و امان کي صورتحال بحال ہو سکتي ہے

صدرِ مملکت جناب ڈاکٹر احمدي نژاد نے سہ فريقي اجلاس ميں اپنے خيالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ دو اجلاسوں اور حاليہ اجلاس ميں اٹھائے گئے تجاويز کو عملي جامہ پہنانے کي ضرورت ہے، انہوں نے عالمي حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دنيا نہايت کھٹن حالات سے گزر رہي ہے، دنيا پر حاکم اقتصادي، سياسي پاليسياں دم تھوڑ چکي ہيں، سامراجي طاقتيں ممالک کے درميان اختلافات اور فرقہ واريت کو ہَوا ديکر ان کي ترقي اور پيشرفت ميں رکاوٹيں پيدا کر رہے ہيں، ان حالات ميں دنيا ايک مسيحا کي تلاش ميں ہے۔

خبر کا کوڈ: 35163 - 

جمعه 17 February 2012 - 14:49

انہوں نے کہا کہ ايران، پاکستان اور افغانستان ايک وسيع تاريخي ثقافت کے حامل ہيں جس کي بنياد انساني تمدن پر رکھي گئي ہے، ان کے عوام ہميشہ الٰہي اقدار کے بالادستي کيلئے سرگرمِ عمل رہے ہيں، ان کے آداب و رسوم سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے ہميشہ ديني اور اخلاقي اقدار کي پاسداري کي ہے،مہمان نوازي اور شجاعت انکي فطرت کے ساتھ عجين ہيں

اس کے علاوہ تينوں ممالک کے عوام خود مختاري اور آزادي کے جذبے سے سرشار ہيں جسکي بدولت يہ ہميشہ سامراج کے خلاف برسرِ پيکار ہيں۔

صدرِ مملکت نے کہا کہ ہم پوري قوم کي نمائيدگي ميں اس اجلاس ميں شريک ہيں لہذا ہميں ان کے جذبات اور مطالبات کي قدر کرني چاہيے-

انہوں نے کہا کہ افسوس کي بات يہ ہے کہ ہم دشمنوں کي سازشوں کے نتيجے ميں فرقہ واريت اور اختلافات کے شکار ہيں حالانکہ ہم اللہ تعاليٰ کي نعمتوں سے مالا مال ہيں ، ہم قدرتي ذخاير، زراعت اور سب سے بڑھ کر انساني توانائي کے حوالے سے باہمي تعاون سے دشمن کے سارے فتنے خاک ميں ملا سکتے ہيں، ميرا خيال يہ ہے کہ تينوں ممالک کے درميان باہمي تعاون سے خطے ميں امن و امان کي صورتحال بحال ہو جائے گا، جس سے مزيد ترقي اور پيشرفت کے مواقع بڑھ جائيں گے۔

صدر ڈاکٹر احمدي نژاد نے مغربي اور استعماري ملکوں کي سازشوں کي جانب اشارہ کرتے ہوئے خطے کے ملکوں کي ہوشياري اور باہمي اتحاد کي ضرورت پر زور ديا- انہوں نے کہا کہ تنيوں ممالک ايران ، پاکستان اور افغانستان سہ فريقي تعاون کے دائرے ميں مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے کا پختہ ارادہ رکھتے ہيں-

اس اجلاس ميں اصف علي زرداري اور حامد کرزئي نے بھي تمام شعبوں ميں باہمي تعاون کي ضرورت پر زور ديا اور کہا کہ اپس ميں افہام و تفہيم سے خطے کے تمام مسائل حل ہوسکتے ہيں۔

خبر کا کوڈ: 35163  

- غیرملکی دورے