صحافيوں سے بات چيت کرتے ہوئے : سہ فريقي سربراہي اجلاس باہمي تعاون اور علاقائي استحکام کي جانب نہايت اہم قدم ہے
بد 13 February 2013 - 10:22
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español
منتخب خبریں

اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے ايران ، پاکستان اور افغانستان کے سربراہي اجلاس کو نہايت اہم قرارديتے ہوئے کہا کہ يہ اجلاس علاقے ميں امن و استحکام کي برقراري ميں ايک اہم قدم ہے۔

صحافيوں سے بات چيت کرتے ہوئے :

سہ فريقي سربراہي اجلاس باہمي تعاون اور علاقائي استحکام کي جانب نہايت اہم قدم ہے

اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے ايران ، پاکستان اور افغانستان کے سربراہي اجلاس کو نہايت اہم قرارديتے ہوئے کہا کہ يہ اجلاس علاقے ميں امن و استحکام کي برقراري ميں ايک اہم قدم ہے۔

خبر کا کوڈ: 35162 - 

جمعه 17 February 2012 - 21:13

صدر احمدي نژاد نے کہا کہ تينوں ممالک علاقائي تعاون کے فروغ اور خطے ميں امن و امان کے قيام کے لئے مشترکہ کوششں کر رہے ہيں - صدر کا کہنا تھا کہ بيروني دشمن خطے کے مسائل اور مشکلات کي اصل وجہ ہيں-

صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے ايران پاکستان اور افغانستان پر مشتمل سہ فريقي سربراہي اجلاس کو باہمي تعاون اور علاقائي استحکام کي جانب اہم قدم قرار ديا ہے-

صدر احمد نژاد نے مغربي اور استعماري ملکوں کي سازشوں کي جانب اشارہ کرتے ہوئے خطے کے ملکوں کي ہوشياري اور باہمي اتحاد کي ضرورت پر زور ديا- صدر نے مزيد کہا کہ علاقائي مسائل کو علاقائي ممالک کےمواقف کونظر ميں رکھ کر مفاہمت نيز ان ملکوں کي ثقافت و حقوق کا احترام کرتےہوئے حل کيا جانا چاہيے۔ صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے کہا کہ تنيوں ممالک ايران ، پاکستان اور افغانستان سہ فريقي تعاون کے دائرے ميں مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے کا پختہ ارادہ رکھتے ہيں-

صدر نے اميد ظاہر کي کہ سہ فريقي سربراہ اجلاس کے موقع پر ان کے دورے سے دونوں ممالک کے تجارت، توانائي، مواصلات اور انفراسٹرکچر سميت مختلف شعبوں ميں دوطرفہ تعاون کو مزيد فروغ دينے ميں مدد ملے گي۔

صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے ايران پاکستان اور افغانستان پر مشتمل سہ فريقي سربراہي اجلاس کو دونوں ممالک کے نہايت اہم قرارديتے ہوئے کہا ہے کہ اس اجلاس ميں ايران اور پاکستان کے درميان ريل اور روڈ رابطے، توانائي منصوبے، آئي پي گيس پائپ لائن کو جلد حتمي شکل دينے اور علاقائي روابط کے متعلق ديگر امور پر بھي بات چيت ہوئي۔ صدر نے ايران پاکستان گيس پائپ لائن منصوبے، ايک ہزار ميگاواٹ بجلي کي ٹرانسميشن لائن اور 100 ميگاواٹ پاور سپلائي پر تيز عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کيا ۔ صدر نے کہا کہ سہ فريقي سربراہ اجلاس سے افغانستان کے بارے ميں مربوط کوششوں کيلئے مفيد فورم مہيا ہوا ہے۔اجلاس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔

صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے پاکستان حکام کے ساتھ ملاقاتوں کا حوالہ ديتے ہوئے کہا کہ طے پايا ہے کہ ايران پاکستان گيس پائپ لائن منصوبے کو جلد از جلد مکمل کيا جائےگا- سرمايه کاري کو فروغ ديا جائے گا جبکہ ايران سے پاکستان کے لئے بجلي کي فراہمي ميں بهي ايک ہزار ميگاواٹ تک اضافہ کيا جائے گا

خبر کا کوڈ: 35162  

- غیرملکی دورے