ايراني صدر ڈاکٹر احمدي نژاد اور آصف علي زرداري نے ملاقات کے دوران مشترکہ طور پر اس عزم کا اظہار کيا: ايران اور پاکستان کے دوست دشمن ايک ہونے کے ناطے تہران اور اسلام آباد کے درميان تعلقات کو مزيد فروغ دينے کي ضرورت ہے
جمعه 14 December 2012 - 10:26
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español
منتخب خبریں

دونوں ممالک کے سربراہوں نے ون آن ون اور وفود کي سطح پر مذکرات ميں اس عزم کا اظہار کيا ہے کہ ايران اور پاکستان کے دوست دشمن ايک ہونے کے ناطے تہران اور اسلام آباد کے درميان تعلقات کو مزيد فروغ دينے کي ضرورت ہے۔

ايراني صدر ڈاکٹر احمدي نژاد اور آصف علي زرداري نے ملاقات کے دوران مشترکہ طور پر اس عزم کا اظہار کيا:

ايران اور پاکستان کے دوست دشمن ايک ہونے کے ناطے تہران اور اسلام آباد کے درميان تعلقات کو مزيد فروغ دينے کي ضرورت ہے

دونوں ممالک کے سربراہوں نے ون آن ون اور وفود کي سطح پر مذکرات ميں اس عزم کا اظہار کيا ہے کہ ايران اور پاکستان کے دوست دشمن ايک ہونے کے ناطے تہران اور اسلام آباد کے درميان تعلقات کو مزيد فروغ دينے کي ضرورت ہے۔

خبر کا کوڈ: 35058 - 

جمعرات 16 February 2012 - 17:05

ڈاکٹر احمدي نژاد نے آج (جمعرات)زرداري کے ساتھ ملاقات ميں کہا کہ ايران اور پاکستان کے درميان گہرے اور دوستانہ تعلقات ہيں اور ان کا سبب يہ ہے کہ دونوں ممالک کے درميان بہت پہلے سے گہرے ثقافتي اور تاريخي روابط پائے جاتے ہيں کہ حاليہ علاقائي اور بين الاقوامي مسائل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے انہيں مزيد فروغ دينے کي ضرورت ہے، اميد ہے ہمارے درميان دوستي اور اخوت کا يہ رشتہ مزيد مستحکم ہو جائے گا۔

اس ملاقات سے پہلے اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد جب ايوان صدر اسلام آباد پہنچنے تو صدر زرداري اور وزير اعظم گيلاني نے ان کااستقبال کيا،اس موقع پر مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے مہمان صدر کو سلامي پيش کي، دونوں ممالک کے قومي ترانے بھي بجائے گئے، صدرڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے گارڈ آف آنر کا معائنہ بھي کيا. گارڈ آف آنر کي

تقريب کے بعد صدر محمود احمدي نژاد نے صدر زرداري سے ون آن ون ملاقات کي، جس ميں دوطرفہ تعلقات، ٹرانزٹ ٹريڈ، سرحدوں کي صورتحال، پاک ايران گيس پائپ لائن منصوبے سميت خطے کي صورتحال پر تبادلہ خيال کيا گيا. اس کے بعد وفود کي سطح پر بھي ملاقات ہوئي جس ميں مختلف امور پر بات چيت ہوئي دونوں صدور کے درميان ون آن ون ملاقات کے بعد وفود کي سطح پر دو طرفہ مذاکرات ہوئے۔ مذاکرات ميں دو طرفہ، علاقائي اور عالمي امور پر تفصيلي تبادلہ خيال کيا گيا۔

خبر کا کوڈ: 35058  

- غیرملکی دورے