ڈاکٹر احمدي نژاد نے پچيسويں " بين الاقوامي خوارزمي ہمائش"کے موقع پر کہا: ايراني قوم علم و ٹيکنالوجي کے ذريعہ دنيا کومحبت اور عدل و انصاف کا پيغام دينا چاہتا ہے
بد 13 February 2013 - 10:18
فارسی | اردو | العربية | English | Français | Español

صدرِ مملکت نے کہا کہ سامراجي طاقتوں کي حاليہ سرکشي کا سبب يہ ہے کہ دنيا پر حاکم بے دين اور ظالم لوگ علمي پيشرفت کو ناجائز مقاصد کيلئے استعمال کر رہے ہيں ليکن اسلامي جمہوريہ ايران علم و ٹيکنالوجي کو ديگر ممالک پر قبضہ کرنے کيلئے نہيں چاہتا بلکہ وہ علم و ٹيکنالوجي کے ذريعہ معاشرے ميں دوستي اور محبت کي فضا قائم کرکے سعادت مندمعاشرے کي بنياد رکھنا چاہتا ہے۔

ڈاکٹر احمدي نژاد نے پچيسويں "

بين الاقوامي خوارزمي ہمائش"کے موقع پر کہا: ايراني قوم علم و ٹيکنالوجي کے ذريعہ دنيا کومحبت اور عدل و انصاف کا پيغام دينا چاہتا ہے

صدرِ مملکت نے کہا کہ سامراجي طاقتوں کي حاليہ سرکشي کا سبب يہ ہے کہ دنيا پر حاکم بے دين اور ظالم لوگ علمي پيشرفت کو ناجائز مقاصد کيلئے استعمال کر رہے ہيں ليکن اسلامي جمہوريہ ايران علم و ٹيکنالوجي کو ديگر ممالک پر قبضہ کرنے کيلئے نہيں چاہتا بلکہ وہ علم و ٹيکنالوجي کے ذريعہ معاشرے ميں دوستي اور محبت کي فضا قائم کرکے سعادت مندمعاشرے کي بنياد رکھنا چاہتا ہے۔

خبر کا کوڈ: 34682 - 

اتوار 05 February 2012 - 12:19

صدرِ مملکت نے آج (اتوار)قبل از ظہر پچيسويں بين الاقوامي خوارزمي ہمائش کے موقع پر سب سے پہلے عيد ميلاد النبيﷺ کي مناسبت سے تمام مسلمانوں کو مبارکباد پيش کيا اور کہا کہ آپ(ص) نے تمام انسانوں کو کمال اور سعادت کي بلنديوں تک پہنچايا اور ہمارا اسلامي انقلاب بھي پيغمبراکرم(ص) کي تعليمات کي روشني ميں کاميابي سے ہمکنار ہوا اور اب بھي انہي اہداف و مقاصد کر رہا ہے، انہوں نے کہا کہ سعادت حاصل کرنا ہرانسان کي فطري خواہش ہے، وہ ہميشہ اسے حاصل کرنے کيلئے سعي و تلاش کر تا رہتا ہے۔

ايراني صدر نےمعاشرے کي سعادت کيلئے چند عوامل کي طرف اشارہ کرتے کي طرف اشارہ کيا اور کہا کہ معاشرہ تب سعادت حاصل کر سکتا ہے جب وہ ايمان کے جذبے سے سرشار اور علم و ٹيکنالوجي کا حامل ہوکيونکہ يہي علم انسان ہے جو انسان کو ديگر حيوانات سے ممتاز کرتا ہے، انہوں نے عدالت کو سعادت مند معاشرے کيلئے تيسرا عامل قرار ديا اور کہا کہ اگر کسي معاشرے ميں عدل و انصاف نہ ہو تو وہ ہرگز ترقي نہيں کر سکتا اور معاسرے ميں موجود ٹيلنٹ ضائع ہو جاتا ہے، مذکورہ عوامل کے ساتھ ساتھ معاشرے کي سعادت کيلئے ضروري ہے کہ معاشرے کے افراد کے اندر ايک دوسرے کے ساتھ عشق و محبت کا جذبہ ہو، انہوں نے کہا کہ ہم سب کو سعادت مند معاشرے کيلئے سعي اور تلاش کرني چاہيے ايک ايسا معاشرہ جس کي بنياد ايمان، علم، عشق اور عدل و انصاف پر رکھي گئي ہو۔

خبر کا کوڈ: 34682  

- عوامی ملاقاتیں