
ڈاکٹر احمدي نژاد؛ "
ايران" اخبار کي ثقافتي انسٹيٹيوٹ کي اٹھارويں سالگرہ کے موقع پر: "ايران" اخبار کے کالمز اور تجزيوں کو اہم اور باہدف مطالب پر مشتمل ہونا چاہيے
ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ ملک کے بعض اخبارات تخريبي اہداف و مقاصد کيلئے استعمال ہو رہے ہيں ليکن اس سے ہٹ کر اکثر اخبارات ملک کي ترقي کيلئے گرانقدر خدمات انجام دے رہے ہيں اور ان اخبارات کو مزيد پيشرفت کيلئے اہم اور اصولي مطالب پر مشتمل ہونا چاہيے ۔
ڈاکٹر احمدي نژاد نے آج (جمعرات) "ايران" اخبار کي ثقافتي انسٹيٹيوٹ کي اٹھارويں سالگرہ کے موقع پرامام مہدي(عج) کے دورِ امامت کے آغاز اور اسکي عشرہ فجرکے ساتھ مقارنت پر مبارکباد پيش کرتے ہوئے کہا کہ ايران کے اسلامي انقلاب نے پوري بشريت کي آنکھوں سے پردا ہٹا ديا ہے تاکہ وہ ترقي کرکے اعليٰ اہداف حاصل کرسکيں۔
انہوں نے "ايران" اخبار کي ٹائٹل "ميں ايران سے پيار کرتا ہوں" کو نہايت عمدہ قرار ديا اور کہا کہ ايران کسي خاص جغرافيائي حدود اور خاص نسل کے ساتھ خاص نہيں ہے کيونکہ جب ہم کہتے ہيں کہ "ميں ايران سے پيار کرتا ہوں" تو اسکا مطلب يہ ہے کہ ميں اللہ تعاليٰ کے بتلائے ہوئے اصولوں پر مبني ايراني تہذيب اور ثقافت سے پيار کرتا ہوں، انہوں نے کہا ايراني قوم فطري طور پر عدالت کا خواہاں ہے يہي وجہ تھي کہ جوں ہي اس سرزمين کے لوگ اہل بيت(ع) کے توحيد اور عدالت پر مبني مذہب سے اشنا ہوئے تو فورا دائرہ ٔاِسلام ميں داخل ہوئے۔
صدرِ مملکت نے کہا کہ ايران کے نام اور اسکي ثقافت کو پوري دنيا ميں عزت اور قدر کي نگاہ سے ديکھا جاتا ہے کيونکہ ايران کا نام ہي انہيں روشن راستے کي جانب رغبت دلانے کيلئے کافي ہے اور اب پوري دنيا کي نظريں ايران پر لگي ہيں کہ وہ کس طرح عدالت پر مبني نظام متعارف کراتا ہے، انہوں نے کہا کہ اخبارات کو چاہيے کہ وہ معاشرے کے منفي پہلوؤں کو ہَوا نہ دے بلکہ انہيں معاشرے کے اصلاح کے پيشِ نظر مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرنا چاہيے۔
انہوں نے آخر ميں "ايران" اخبار کي سعي و تلاش کو قيمتي اور ارزشمند قرار ديا اور اس سلسلے ميں اٹھائے گئے تمام ٹھوس اقدامات کي قدرداني کي اور کہا کہ ہميں سامراج کے مقابلے ميں جو اللہ تعاليٰ کي جانب سے انسان کے کمال تک پہنچنے کيلئے بتلائے ہوئے اصولوں کو پائمال کر رہے ہيں، اعليٰ اور مثبت افکار معاشرے ميں پھيلانے چاہيے۔